جوئے شیریں

by Other Authors

Page 27 of 107

جوئے شیریں — Page 27

٢٤ کروں گا دُور اُس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فَسُبْحَانَ الَّذِي احْزَى الأعادي تجھے حمدوثنا زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے تیرے احساں نہیں میرے سر پہ بھارے چمکتے ہیں وہ سب جیسے ستارے شرمیوں پر پڑے ان کے شرارے نہ ان سے تک سکے مقصد ہمارے انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَمَادِي تجھے سب زور قدرت ہے خدایا تجھے پایا ہراک مطلب کو پایا سہراک عاشق نے ہے اک بیت بنایا ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا