جذبۃ الحق — Page 6
چکا چوند سا آنکھوں میں معلوم ہوا۔پس آنکھوں کو مل کر پھر پڑھنے لگا۔اور پھر ایساری معلوم ہوا اور پھر آنکھوں کو مل کر پڑھنے لگا۔اور پھر وہی حالت ہوئی۔تب میں نے غور سے دیکھنا شروع کیا۔تب عبارتوں کے اندر ایک روشنی کی معلوم ہوئی۔میں نے دل میں کہا کہ اہل باطل کی تو بہت سی تحریریں میں نے دیکھی ہیں۔لیکن یہ کیفیت کسی میں نہیں پائی اہل باطل کے کلمات ظلمت سے پر ہوتے ہیں۔یہ روشنی کیسی۔پھر حضرت صاحب کی کتابیں دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔اور ایک مرتبہ دل میں آیا کہ حکیم صاحب نے جو پانچ روپیہ وکیل صاحب کے پاس سے طلب کیا تھا وہی پانچ روپیہ خفیہ میں حکیم صاحب کے پاس اپنے نام سے بھیج دوں تاکہ حکیم صاحب کچھ کتابیں میرے نام پر روانہ کر دیں۔لیکن اس اثناء میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ایک ٹائٹل پیج پر حضرت صاحب کی تصنیف کردہ کتابوں کی ایک فہرست دیکھنے میں آئی۔اس لئے حکیم صاحب کی وساطت کی ضرورت نہ رہی بلکہ میں نے براہ راست خودہی قادیان سے تھوڑی کتابیں مثلا ازالہ اوہام ہر دو حصہ۔تحفہ گولڑویہ۔نشان آسمانی لیکچر لاہور اور لیکچر سیالکوٹ وغیرہ وغیرہ بذریعہ وی۔پی منگالیں۔اور بہت ہی توجہ کے ساتھ ان کتابوں کو پڑھنے لگا۔اور جہاں جہاں اپنی دانست کے خلاف کچھ پاتا تھا حاشیہ پر نشان کرتا جاتا تھا۔تاکہ نظر ثانی میں اس کی اچھی طرح تحقیق کر سکوں۔اور کبھی ایسا بھی اتفاق ہو تا تھا۔کہ وہی کتاب پڑھتے پڑھتے شبہ دور ہو جاتا تھا۔ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد اور بھی کتابیں بدفعات منگایا اور پڑھتا گیا۔آخر اور جوں جوں کتابیں پڑھتا تھا۔شوق بڑھتا جاتا تھا اور صداقت کی روشنی دل میں پیدا ہوتی جاتی تھی۔اول اول جب کتابیں پڑھتا اور کوئی بات دل میں کھنکتی