جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 5 of 63

جذبۃ الحق — Page 5

5 بھیجیں ہدیہ بھیجیں کیونکہ بغیر کچھ حقیقت دریافت کئے ہم روپیہ پیسہ خرچ نہیں کر سکتے۔پس میں نے بھی وکیل صاحب کے کہنے سے ویسا ہی لکھ دیا۔حکیم صاحب نے بڑے شدومد سے اس خط کا جواب وکیل صاحب کو یہ لکھا کہ جب آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا کا کوئی کام بغیر پیسے کے نہیں پتا تو کیا دین اور خدا طلبی کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آپ کے پاس پیسے نہیں ہاں ہو سکتا ہے کہ دس ہیں روپیہ کی کتابیں خرید کر ہم آپ کو بھیج دیں لیکن جبکہ ہم نزدیک والے اور غریبوں کے لئے اس قدر خرچ نہیں کر سکتے۔تو آپ کے لئے جو اس قدر دور کے رہنے والے ہیں اور مرفہ الحال بھی ہیں روپے خرچ کرنا مناسب خیال نہیں کرتے۔میں آپ کے لئے بھیجوں تو بھیجوں کیا کتا ہیں تو یہاں بہت ہیں۔اور اخیر میں لکھا کہ آپ مہربانی فرما کر فی الحال صرف پانچ روپیہ میرے پاس بھیج دیں۔تو میں کچھ کتابیں مناسب حال آپ کے انتخاب کر کے بھیج دوں گا۔حکیم صاحب ممدوح نے حضرت صاحب کے کچھ حالات بھی مختصر طور پر لکھ کر بھیجا تھا جس میں آٹھم اور لیکھرام کے واقعات بھی کچھ تحریر تھے۔اور ریویو آف ریلیجنز اردو کے چند رسالے بھی مفت روانہ کئے۔وکیل صاحب نے ان رسالوں کو لا کر میرے پاس ڈال دیا۔پس وہ رسالے میرے پاس پڑے رہے اور کبھی کبھی میں ان میں سے کسی نہ کسی کو اٹھا کر دیکھ لیتا تھا۔اور دل میں کہتا تھا کہ اگر اس مدھی امام کی اپنی تصنیف کی ہوئی کوئی کتاب یا تحریر ہاتھ آتی تو حقیقت حال معلوم ہو جاتی۔ان رسالوں کو الٹ پلٹ کرتے کرتے یکایک ایک دن حضرت صاحب کی ایک تحریر خاکسار کی نظر سے گذری۔میں نہایت توجہ کے ساتھ اس کو پڑھنے لگا طرز تحریر سے ایک شان و عظمت ظاہر ہوتی تھی۔پڑھتے پڑھتے اچانک ایک