جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 47 of 63

جذبۃ الحق — Page 47

47 ملاقات کرنی تھی۔کچھ گفتگو کرنے کے شوق سے نہیں۔کیونکہ پیشتر سے اس سے خط و کتابت تھی۔اور اس کی بہت سی تالیفات حضرت صاحب کے خلاف میں منگا کر دیکھ چکا تھا۔اور اس کا اخبار اہلحدیث بھی کبھی کبھی منگا تا تھا غرض اس کی شرارت کی کیفیت پہلے ہی سے مجھ پر ظاہر ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ ملاقات کرنا دو غرض سے تھا ایک تو اس کی صورت شکل دیکھنا تھا دوسرے میر قاسم علی صاحب نے دہلی سے ایک فرمائش یہ کی تھی کہ اگر مولوی ثناء اللہ سے آپ کی ملاقات ہو تو ان سے دریافت فرمائیے گا۔کہ میرا اشتہار کا جواب کیوں نہیں سے کا دیتا۔بات یہ ہے کہ میر صاحب نے ایک اشتہار چھپوایا تھا۔کہ اگر مولوی ثناء اللہ اس اشتہار کے مطابق حضرت صاحب کی تکذیب کرے تو پچھتیس روپے بطور انعام کے میں اس کو دونگا۔لیکن مولوی ثناء اللہ اس کو قبول نہیں کرتا تھا۔میں نے جب مولوی ثناء اللہ سے پوچھا کہ آپ تو مکذب مرزا صاحب کے ہیں پھر میر صاحب کے اشتہار کے مطابق کیوں مذیب نہیں کرتے اور انعام موعود نہیں لیتے اس نے جواب دیا کہ یوں تو میں دن رات تکذیب کرتا رہتا ہوں اس میں مجھے عذر کیا ہے۔لیکن یہ لوگ اس میں پیچ در پیچ لگاتے ہیں اس لئے میں قبول نہیں کرتا۔مولوی ثناء اللہ پر اس قسم کے مطالبات اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ سلسلہ احمدیہ سے اس قدر واقف ہے کہ ہر احمدی بھی اس قدر واقف نہیں ہے۔فقط ضد اور دنیا طلبی اور بے ایمانی کی وجہ سے سلسلہ احمدیہ کو قبول نہیں کرتا۔اس وجہ سے اس پر اس طرح سوال کیا جاتا ہے کہ مباہلہ کے بیچ میں کرے مگروہ بھی اس قدر شریر ہے کہ اس کو تاڑا جاتا ہے اور مباہلہ کے بیچ میں آنے سے اپنی جان بچا بچا کر چلتا ہے ہمیشہ سے اس کا یہی حال ہے لیکن جب اس سے میری ملاقات ہوئی۔جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی اس کا چہرہ زرد ہو گیا تھا۔