جذبۃ الحق — Page 48
48 نہ معلوم اس میں کیا سر ہے۔واللہ اعلم۔بر کیف اس نے مجھے کچھ ناشتہ کرانے کی کوشش کی۔لیکن میں انکار کرتا رہا۔پھر کہا کہ کچھ فواکہات حاضر کروں اس میں میں نے یہ عذر کیا کہ آخر فواکہات میں سے آپ سیب و ناشپاتی ہی لاویں گے اور اس سے میرا جی بھرا ہوا۔ہے کیونکہ ریل گاڑی پر بیٹھے بیٹھے اس کا شغل رکھتا ہوں آخر کچھ دودھ شکر ملا کر لایا تو اس سے کچھ عذر کرنے کی کوئی معقول بات نہ پائی ناچار تھوڑا سا پی لیا۔اور باقی مولوی اعداد علی کو جو میرے ساتھ تھے دے دیا۔المختصر اسی دن امرتسر سے بٹالہ پہنچا۔اور سرائے میں اترا۔دوسرے دن۔صبح کو مولوی محمد حسین بٹالوی کی ملاقات کو گیا اس کے ساتھ بھی گفتگو کرنے کے شوق سے نہیں گیا کیونکہ اس کے ساتھ بھی پیشتر سے میری خط و کتابت تھی۔چنانچہ پہلی مرتبہ جو خط میں نے اس کو لکھا تھا اس کا مضمون یہ تھا کہ مرزا صاحب قادیانی کی شہرت یہاں تک بھی پہنچی ہے مگر ہم لوگ بہت دور رہتے ہیں اور آپ تو ماشاء اللہ عالم بھی ہیں زبر دست اور قرب و جوار میں بھی رہتے ہیں اور ہمیشہ مرزا صاحب سے رد و قدح بھی ہوتی رہتی ہے۔پھر آپ سے زیادہ واقفیت مرزا صاحب کے حال سے اور کس کو ہو سکتی ہے۔پس اس قدر خوشامدانہ کلام پر مولوی محمد حسین بالکل اچھل پڑے اور نهایت شدومد کے ساتھ لکھا کہ میرزا صاحب قادیانی کی تردید جس قدر میں نے کی تھی پنجاب و ہندوستان کے علماء میں سے کسی نے نہیں کی۔سات برس تک میں یہی کام کرتا رہا۔چنانچہ سات جلد میں اشاعتہ السنہ کی میرے پاس موجود ہیں اور قیمت ہر ایک کی تین روپیہ ہے اگر کیفیت حال دریافت کرنا منظور ہو تو آپ ان سب کو منگا کر دیکھ سکتے ہیں۔