جذبۃ الحق — Page 46
46 اور ان کے ساتھ جتنے اور بے وقوف بیٹھے تھے سب کے سب نے ہنسنا شروع کیا۔اور بات کی تہہ تک ذرا بھی نہ پہنچے۔بات یہاں تک پہنچی تھی کہ مولوی عبد الحق صاحب اپنے خادم کو زور سے پکارنے لگے کہ چائے لاؤ جائے لاؤ۔مولوی صاحب کو چائے پلاؤ۔لیکن میں نے چائے نہیں لی۔اور عذر کیا کہ میرے لئے چائے مضر ہے۔المختصر ای پر میری گفتگو مولوی عبد الحق صاحب سے ختم ہوئی اور وہاں سے اٹھ کر ہم اپنی اقامت گاہ میں چلے آئے۔اور دوسرے دن پنجاب کی طرف روانہ ہو گئے۔پس اے حق کے طالبو! علمائے دنیا دار کا حال دیکھو کہ اپنی عزت و اعتبار قائم رکھنے کے لئے کس قدر احتیاط سے کام لیتے ہیں اور خدا کا خوف بالکل دل میں نہیں لاتے۔اور اللہ تعالٰی کے مامور و مرسل کو قبول نہیں کرتے۔بلکہ عوام کو معتقد رکھنے کے لئے حق بات کو بسا اوقات سمجھ کر بھی نہیں سمجھتے۔اور اس قصور کے سبب اللہ تعالی نے نور معرفت ان سے سلب کر لیا ہے۔اس لئے اسے شناخت بھی نہیں کر سکتے۔یہ مولانا شبلی نعمانی اور مفتی عبد اللہ ٹونگی اور مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی اور مولانا عبد الحق مولف تغییر حقانی ہندوستان میں چوٹی کے علماء شمار کئے جاتے تھے جب انہیں کا یہ حال تھا تو انسی پر اوروں کو بھی قیاس کرنا چاہئے۔اکثر خاص و عام مسلمان انہی کے انکار سے دھوکا کھا کر سلسلہ حقہ احمدیہ کو قبول نہیں کرتے۔اور سمجھتے ہیں کہ ان علماء کے اندر بہت سا علم ہے یہ حضرات کیا غلط کہتے ہیں حالانکہ اندرونہ ان کا خالی ہوتا ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔فاعتبر وايا اولی الابصار الغرض وہلی سے روانہ ہو کر امر تسر پہنچا وہاں مولوی ثناء اللہ صاحب سے