جذبۃ الحق — Page 26
26 کرتے ہیں۔جس کا جواب دینا مشکل ہو رہا ہے۔جناب کی تحقیق اس بارہ میں کیا ہے ؟ مولانا نے فرمایا کہ اس کے متعلق کوئی یقینی بات نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ ادھر بات تو وَما فَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ یعنی یہودیوں نے نہ تو حضرت عیسی کو قتل کیا اور نہ ان کو صلیب دیا اور ادھر فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرقيب عليهم بھی ہے یعنی جبکہ وفات دے دی تو نے مجھ کو اے پروردگار میرے فقط توی نگهبان رہا اوپر ان کے یعنی نصاری کے۔انتہی خاکسار نے کہا کہ اس عقیدہ کو ٹھیک کرنے کے لئے اس قدر دور سے جناب کے پاس آیا۔اب جب جناب بھی فرماتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں کہا جا سکتا تو آپ فرمائیے کہ اس کے لئے کہاں اور کس کے پاس جاؤں؟ اس پر مولانا نے فرمایا کہ کیا یہ ضروری ہے کہ شریعت کے ہر ایک مسئلے کو ٹھیک کر لیا جاوے۔چنانچہ استوی علی العرش کے مسئلے میں حضرت امام مالک صاحب فرماتے ہیں الاستواء معلوم والكيفيّت مجهول والسؤال عَنْهُ بِدُعَة وَالْإِيْمَانُ بِهِ وَاحِبْ یعنی استواء کے معنی سب کو معلوم ہیں اور کیفیت اس کی مجمول ہے یعنی نا معلوم اور سوال کرنا اس سے بدعت ہے اور ایمان لانا ساتھ اس کے واجب ہے۔انتہی پس خاکسار نے کہا کہ استوى على العرش صفات باری تعالیٰ میں سے ہے اور اللہ تعالٰی اپنی ذات و صفات کے ساتھ بے چون و بے چگون ہے۔پس اگر استویٰ علی العرش کے بارے میں کہا جاوے کہ ہم اس کی کیفیت نہیں جانتے تو بے شک بجا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام اگر چہ ایک نبی جلیل القدر تھے۔مگر جنس بشر سے تھے۔اور بشر کے لئے حیات و وفات ایک معمولی امر ہے پس یہ مسئلہ نظیر استواء علی العرش کی نہیں ہو سکتی۔اس پر بھی مولانا شبلی