جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 25 of 63

جذبۃ الحق — Page 25

25 تک شیعوں کو دبانے کی غرض سے ان پر حملے کرتے رہے شیعہ اور ترقی کرتے جاتے تھے۔اور جب سنیوں نے سکوت اختیار کیا تب سے شیعہ از خود کمزور ہونے لگے اور ان میں تنزل شروع ہو گیا۔خاکسار نے کہا کہ جناب کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء سلف نے خدا آب باطلہ کی تردید میں جو کتابیں لکھی ہیں وہ بے جا تھیں علاوہ بریں میں نے صواعق محرقہ کے آغاز میں دو حدیثیں دیکھی ہیں ان سے ایک یہ ہے کہ فرمایا رسول الله صلعم نے إِذَا ظَهَرَ الْفَتَنُ أَوْ قَالَ الْبِدْعَ وَ سَبِّ أَصْحَابِي فَلْيُظهِرِ الْعَالِمُ عِلَمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلُ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَئِكَتِهِ و النَّاسِ أَجْمَعِينَ لا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ فَرْضًا وَلَا عَدْلاً؟ یعنی آنحضرت سلم نے فرمایا۔جب ظاہر ہوں فتنے یا فرمایا بدعتیں اور گالی دینا میرے اصحاب کو پس چاہئے کہ ظاہر کرے عالم اپنے علم کو اس پر۔پس جس نے نہ کیا یہ پس اوپر اس کے لعنت اللہ تعالیٰ کی ہے اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی نہ قبول کرے گا اللہ تعالی اس سے عبادات کو نہ نقل نہ فرض۔انتہیلی اور اگر فرضا جناب کی دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جاوے تب بھی چپ رہنا اس وقت مفید ہوتا ہے جب جناب تمام علماء ہند کو اپنے ساتھ متفق کر لیتے۔اور سب کے سب خاموش رہتے اور بغیر اس کے فقط جناب کے چپ رہنے سے کیا فائدہ ہو گا جبکہ ہمیشہ ہر طرف سے تردید کی دھوم مچ رہی ہے جو عیاں ہے۔میری یہ دلیل سن کر مولانا شیلی صاحب نے خاموشی اختیار کرلی۔اور اتنی دیر تک سکوت میں رہے کہ جب پھر جواب کی امید باقی نہ رہی۔تو خاکسار نے دوسری بات پوچھی۔جو یہ تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حیات و وفات کے متعلق عام علماء میں بڑا اختلاف ہے۔اور احمدی عقائد کے لوگ شدومد کے ساتھ وفات عیسی علیہ السلام ثابت