جذبۃ الحق — Page 27
27 صاحب سکوت کر گئے اور اس قدر دیر تک سکوت میں رہے کہ جب جواب کی امید باقی نہ رہی تو پھر خاکسار نے تو قف بسیار کے تیسری بات پوچھی۔جو یہ تھی۔که نزول مسیح کی حدیث تو صحیح بخاری میں بھی ہے جس کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے اس میں لفظ نزول کے کیا معنی ہیں۔خصوصاً بعد ثبوت وفات مسیح کے اور احمدی لوگ تو وفات مسیح ثابت کرنے کے بعد ہی اس کو پیش کرتے ہیں جس کا جواب دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔مولانا شیلی صاحب نے جواب دیا کہ یہ ب حدیثیں تو اخبار احاد سے ہیں جو یقینی نہیں ہیں خاکسار نے کہا کہ اکثر حدیثیں تو اخبار احادہی میں سے ہیں۔متواتر کہاں ہیں اور میں بھی تو بہت ہی کم قطع نظر اس کے اخبار احاد کے بھی تو معنی ہوتے ہیں معمل تو نہیں ہیں اور کلام تو معنی ہی میں ہے مفید یقین و مفید ظن ہونے میں تو نہیں ہے اس پر بھی مولانا شیلی نے سکوت فرمایا ار یہ تیسرا سکوت تھا مخفی نہ رہے کہ ان سکوتوں پر خاکسار مولوی شیلی کی مدح وستائش ہی کرتا ہے کیونکہ عالم کی شان ایسی ہی ہونی چاہئے۔کہ جس امر میں جواب معقول کی راہ معقول نہ ہو سکوت اختیار کرے اور اب تو نا اہلوں کا زمانہ آپڑا ہے کہ سکوت کرنے کو موجب ننگ و عار سمجھتے ہیں۔ایسے لوگ اس مثل کے مصداق ہیں ”ملا آن باشد که چپ نشود دانشمند حقیقت رس لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے موقعوں پر سکوت نہ کرنا موجب ننگ و عار ہے۔