جذبۃ الحق — Page 10
10 ہو گی اور اگر جاؤں تو اس سے (یعنی خاکسار سے مقابلہ مشکل ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے ایک یا دو ایسے زبردست فاضل مولوی بلا دیں جو اس کو دیعنی خاکسار کو اچھی طرح شکست دے سکیں۔پس مولوی شمس اللہ کی نے اپنے چچا کی خاطر اس میں بڑی کوشش کی اور جستجو کے بعد دو (۲) مولویوں کو بلایا۔ان میں سے ایک تو مولوی عبد الوہاب ہماری حنفی تھا۔اور دوسرا مولوی عبداللہ چھپر دی جو گروہ اہل حدیث سے تعلق رکھتا تھا۔یہ دونوں سلسلہ حقہ کے سخت دشمن ہے۔المختصر روز مقررہ پر دونوں مولوی صاحبان صبح کے وقت بذریعہ سٹیمر برہمن بڑیہ میں وارد ہوئے۔اور مولوی ولی اللہ سب رجسٹرار کے پاس جو مولوی شمس الد کی کے دوسرے چا تھے۔فروکش ہوئے۔اور وہیں ان کے کھانے وغیرہ کا انتظام ہوا۔جلسہ کے اشتہار میں وقت مباحثہ آٹھ بجے دن قرار دیا گیا تھا اور ہم لوگ اس کے مطابق جلسہ گاہ میں جو ہمقام عید گاہ تھی جاپہنچے۔لیکن مخالف مولوی صاحبان تقریباً ایک بجے وہاں گئے اور ان لوگوں کے جانے کے بعد اس بات پر گفتگو شروع ہوئی کہ بحث کس کس مسئلہ میں ہو گی۔اور کس ترتیب سے ہو گی۔جلسہ کے لوگ دو فریق ہو گئے ہماری طرف کے لوگ تو یہی کہتے رہے کہ اشتہار میں جو ترتیب لکھی ہوئی ہے اس طرح ہو۔اور مخالف فریق کے لوگ کہتے تھے کہ اشتہار میں لکھی ہوئی ترتیب سے کیا غرض۔مولانا صاحبان اس وقت جو ترتیب مقرر کریں اسی طرح ہو۔اس نزاع نے بہت طول کھینچا اور کوئی فریق دوسرے فریق کی بات کو نہیں مانتا تھا۔آخرش اس گفتگو ہی میں دن کے تین بجے کے قریب ہو گئے اور صورت حال ایسی ہو رہی تھی کہ بحث بالکل نہ ہو۔اس وقت مولوی عبد الوہاب بہاری کھڑے ہو کر نہایت افسوس کے ساتھ