جذبۃ الحق — Page 39
39 میں آپ کو اصل بات بتائے دیتا ہوں۔میں نے کہا بہت خوب یہی میرا مین مقصد ہے آپ واضح طور پر فرما دیں پس مولوی صاحب نے فرمایا۔اللہ تعالی اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدًا بَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ الله A KA NAKANGUAGE NOW یعنی نہیں ہے محمد باپ کسی کے مردوں سے تمہارے لیکن رسول اللہ کا ہے اور مہر نبیوں کے۔انتہی اس آیت شریفہ میں جو لفظ خاتم النبيين ہے یہ لفظ بعد آنحضرت صلعم نبی کے آنے کے نص امتناع پر عموماً قاطع ہے۔کوئی نبی کسی قسم کا بعد آنحضرت مسلم کے نہیں آسکتا۔اور اگر کوئی کسی قسم کی نبوت کا دعوی کرے وہ بے شک کا فر ہے۔اور دائرہ اسلام سے بالکل خارج ہے تب میں نے کہا کہ کیا اب بندہ بھی کچھ عرض کر سکتا ہے۔فرمایا کہئے پس میں نے عرض کیا کہ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ آیت شریفہ مذکورہ بی بی زینب کے نکاح کے بارے میں ہے انہوں نے کہا ہاں اس میں کیا شک۔میں نے کہا کہ اس آیت شریفہ میں جو کلمہ لکن حرف استدراک واقع ہوا ہے۔اس کی وجہ استدراک کیا ہے بیان فرما دیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ اچھا میں پھر بتاؤں گا۔ابھی الفاظ خاتم النبین پر غور کیجئے۔میں نے کہا بہت اچھا فرما ہئیے کہ جملہ خاتم النبیین مقام مدح میں واقع ہے یا مقام زم میں انہوں نے کہا کہ مقام مدح میں۔تب میں نے کہا کہ اب لفظ خاتم النبیین کے معنی بیان فرما دیں۔بظاہر اس جملہ میں دو ہی لفظ ہیں عائم اور نبیین اور ظاہر ہے کہ نبیین جمع ہے لفظ نبی کا۔اب باقی رہا لفظ خاتم کے معنے۔پس فرمائیے اس لفظ کے کیا معنی ہیں انہوں نے کہا کہ اس کے معنے ہیں صر۔میں نے کہا بہت خوب۔پس خاتم النبیین کے معنے ہوئے مرغیوں کی۔اب فرمائیے اس سے کیا مراد ہے انہوں نے کہا کہ سب