حضرت جویریہؓ — Page 3
3 سامان کو کہتے ہیں جو اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے کے بعد بھاگ جانے اور شکست کھانے والے پیچھے چھوڑ جائیں۔آپ ع مال غنیمت جہاد میں حصہ لینے والوں میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔اس تقسیم میں پروہت حارث، حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے حصے میں آئیں۔بز و سردار کی بیٹی تھیں۔غلامی میں لونڈی بن کر رہنا انہیں پسند نہ آیا۔اسلام میں یہ طریق ہے کہ اگر لونڈی یا غلام کچھ رقم ادا کر دیں اور مالک رضا مند ہو جائیں تو انہیں آزادی مل سکتی ہے اس کو مکاتبت کہتے ہیں۔بڑہ نے حضرت ثابت سے درخواست کی کہ اُن سے مکاتبت کر لیں۔حضرت ثابت نے 9 اوقیہ سونے پر مکاتبت کر لی (2) ( اوقیہ سونا تولنے کا کوئی پیمانہ تھا )۔مکاتبت تو کر لی مگر سونا کہاں سے لائیں وہ تو خالی ہاتھ تھیں۔سوچنے لگیں کہ سُنا ہے مسلمانوں کا رسول محمد مے بہت رحم دل ہے اُن صلى الله سے قرض یا مدد کی درخواست کرتی ہوں۔اگلے ہی دن حضور ملنے کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور درخواست کی۔یا رسول اللہ ﷺ! میں قوم کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں مجھ پر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ اللہ کو معلوم ہے میں نے اپنے آقا سے آزادی حاصل کرنے کے لئے 9 اوقیہ سونے پر مکاتبت کر لی ہے میری درخواست یہ ہے کہ اس رقم کو ادا کرنے میں میری مدد فرمائیں۔(2) تر ونے اتنے وقار سے اچھے انداز میں مدد کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علی