حضرت جویریہؓ — Page 2
2 تھی۔غصے کی آگ میں جلتا تھا اور لوگوں سے کہتا کہ مکہ والے جس فتنہ کو ختم نہ کر سکے، مدینہ والے جس فتنہ کو ختم نہ کر سکے اُسے ہم ختم کریں گے۔قریش مکہ بھی ہماری مدد کریں گے۔اپنے اپنے جنگی ہتھیار لے کر مریسیع پہنچ جاؤ۔ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔مدینہ کے مسلمانوں کو ختم کر کے چھوڑیں گے۔حارث کی بیٹی برہ کا شوہر مسافع بن صفوان بھی اُس کے ساتھ تھا۔اُس پر جنگ کا جنون سوار ہو گیا تھا۔ادھر آنحضرت میے کو علم ہو گیا کہ جنگی تیاریاں ہو رہی ہیں۔آپ ﷺ کا طریق تھا کہ سنی سنائی بات پر یقین نہ کرتے تھے۔آپ ﷺ نے ایک شخص بریدہ بن حصیب اسلمی کو روانہ کیا کہ جائزہ لے کر آئیں۔اُنہوں نے واپس آ کر سب حالات سنائے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دے دیا۔(1) شعبان 5 ہجری کو مدینہ سے مسلمانوں کی فوج روانہ ہوئی۔فوج کی روانگی کا سُن کر اُن کا سپہ سالار حارث بن ابی ضرار تو ڈر کے بھاگ گیا اُس کے فوجی بھی ادھر ادھر چلے گئے۔مریسیع کے رہنے والوں نے اسلامی فوج کا مقابلہ کیا مگر جلد ہی شکست کھائی۔مسلمانوں کو فتح ہوئی۔دشمنوں کے گیارہ آدمی مارے گئے 600 جنگی قیدی بنے ، بہت سا مال غنیمت بھی ہاتھ لگا جو مارے گئے اُن میں حارث کا داماد مسافع بھی تھا۔جو جنگی قیدی بنے اُن میں حارث کی بیٹی یہ بھی تھیں۔مال غنیمت اُس