حضرت جویریہؓ — Page 4
4 کے دل میں ڈالا کہ اگر اس سے شادی کر لیں تو اس قبیلے سے ساری دشمنیاں ختم ہو کر اسلام پھیلنے کے سامان ہو سکتے ہیں اور آپ ﷺ نے فرمایا۔اُس سے 66 بھی بہتر ایک صورت ہے اگر تم اسے قبول کر لو۔“ برہ نے عرض کی۔فرمائیے:۔آپ ﷺ نے فرمایا ” تمہاری طرف سے میں روپیہ ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں۔“ بزہ کو معا اپنا ایک خواب یاد آیا جو کئی برس پہلے دیکھا تھا کہ میٹرب (مدینہ ) سے چلتا ہوا چاند اُن کی آغوش میں آگیا ہے۔خواب کی تعبیر سامنے تھی آپ نے رضا مندی دے دی۔اور یہ بابرکت شادی ہوگئی۔نکاح کے وقت حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی عمر 20 سال تھی۔(4) یہ نکاح 627ء میں ہوا۔شادی کے بعد آنحضرت ﷺ نے آپ کا نام جویریہ رکھا۔(5) حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنھا بہت خوبصورت تھیں۔حضرت عائشہ نے فرمایا ہے جو یر یہ بڑی شیریں زبان، مناسب بدن، ملیح اور صاحب حسن و جمال عورت تھی۔جو دیکھتا فریفتہ ہو جاتا۔(6) آپ ﷺ نے بنو مصطلق کی ایک بہادر اور ذہین لڑکی سے رشتہ کر لیا صلى الله تو اس قبیلے کے سب افراد آپ مے کے رشتہ دار ہو گئے۔اس تعلق سے صل الله مسلمانوں کو اچھانہ لگا کہ آنحضور میلے کے سسرالی عزیزوں کو قیدی بنا کر رکھیں