حضرت جویریہؓ — Page 13
13 دی اور فرمایا صدقہ کی کھجور ہے جو تمہارے لئے کھانا جائز نہیں۔اب ان دونوں باتوں پر غور کریں تو آپ ﷺ کی سوچ کی گہرائی پر حیرت ہوتی ہے۔صدقہ تو سادات کو جائز نہیں لیکن اگر کوئی غریب اپنے صدقے میں سے کسی کو کچھ تحفہ دے تو وہ اس کے لئے جائز ہے کیونکہ صدقہ اُس کے لئے تھا۔اُس نے آگے جس کو دیا اس کے لئے وہ تحفہ ہو گیا۔بہت خوبصورت بات ہے جس میں غریبوں کی دل داری کا جذ بہ نظر آتا ہے اور دوسری طرف کسی مجبور کے پیٹ بھرنے کا سامان بھی۔حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا غریبوں کی بے حد ہمدرد تھیں۔صدقہ وخیرات کر کے انہیں سکون ملتا تھا۔کسی کی مدد کا موقع مل جائے تو اسے اللہ کی نعمت خیال فرمائیں۔حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا کو اپنے محبوب شوہر کا ساتھ صرف چھ سال میتر آیا۔یہ ٹھنڈی چھاؤں جہاں سکون ہی سکون تھا۔محبت کی خوشیاں تھیں۔دلداری کی راحتیں تھیں۔خدا نما و جو د کی صحبت تھی۔وہ ساتھ چھوٹ گیا۔جس پاک ہستی کو دیکھ کر آپ کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی ملتی تھی اُس کی خوشی کی خاطر ایک آخری قربانی آپ نے یہ کی کہ اپنے محبوب شوہر کو آخری بیماری میں حضرت عائشہ کے حجرے میں رہنے کی اجازت دی۔آپ ﷺ کا وصال ہوا تو ایسا لگا جیسے ساری دنیا میں اندھیرا چھا گیا ہے۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور