حضرت جویریہؓ

by Other Authors

Page 12 of 19

حضرت جویریہؓ — Page 12

12 ہیں۔فرماتے ہیں:۔نحضرت ﷺ نے اپنی وفات کے وقت کوئی درہم، کوئی دینار کوئی غلام اور کوئی لونڈی اپنے پیچھے نہیں چھوڑی۔“ (17) اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے نہ صرف غلام آزاد کرنے کی تعلیم دی بلکہ اپنے عمل سے مثال بھی قائم فرمائی اور اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت صلى الله آپ ﷺ کے پاس کوئی دنیاوی دولت نہیں تھی۔آپ ﷺ نے ساری عمر متاع آسمانی یعنی آسمانی دولت ڈھونڈی اور وہی ساتھ لے گئے۔صلى الله ایک دفعہ حضور ﷺ حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ” کچھ کھانے کو ہے؟ عرض کیا۔یا رسول اللہ ﷺ میری کنیر نے صدقے کا گوشت دیا تھا بس وہی موجود ہے۔“ حضور ﷺ نے فرمایا: "لے آؤ جس کو صدقہ دیا گیا پہنچ چکا۔“ (18) حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا نے اس بات کو یا د رکھا اور بیان کیا۔یہ اُمت صلى الله پر آپ کا احسان ہے کیونکہ اس سے ایک بات کی وضاحت ہوگئی۔آنحضرت سے نے اپنی آل اولاد کو صدقہ کھانے سے منع فرمایا تھا۔واقعہ یہ ہوا تھا کہ ایک دفعہ آپ ع کے پاس ایک ٹوکرا کھجوروں کا صدقے کے لئے آیا۔حضور میلے کے ننھے نواسے حسن نے کھجوریں دیکھیں تو ایک اُٹھا کر منہ میں ڈال لی۔آپ ﷺ نے دیکھا تو اپنی انگلی حسن کے منہ میں ڈال کر وہ کھجور نکال کر پھینک