حضرت جویریہؓ

by Other Authors

Page 9 of 19

حضرت جویریہؓ — Page 9

9 خرچ چلانے کی ساری ذمہ داری حضرت بلال پر تھی۔جو کچھ تھے تحائف ، مالِ نقیمت سے آمد ہوئی سب حضرت بلال کی تحویل میں ہوتی۔فرباء ومساکین میں بھی آپ ہی تقسیم فرماتے۔ضرورت ہوتی تو قرض لے لیتے۔فتح خیبر کے صلى الله بعد آنحضور ﷺ اپنی بیگمات کو ایک مہینے کے لئے 20 کلو کے قریب جو اور سال بھر کے لئے 2 من کے قریب کھجوریں اکٹھی دلوا دیتے تھے اسی میں سے مہمان داری اور صدقہ خیرات بھی جاری رہتا۔(12) ان تنگ حالات میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔اگر تمہیں یہ خواہش ہے کہ دنیا کی زندگی کا ساز وسامان تمہیں مل جائے تو آؤ میں تمہیں دنیا کا مال و متاع دے دیتا ہوں مگر اس صورت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں پھر میں احسان و مروّت کے ساتھ تمہیں رخصت کر دوں گا لیکن اگر تم خدا اور اُس کے رسول کی خواہش رکھتی ہو اور آخرت کا اجر چاہتی ہو تو سن لو کہ تم میں سے ان نیکو کاروں کے لئے جو خدا کے منشاء کو پورا کریں خدا نے بہت بڑا اجر تیار کیا ہے۔“ (13) 66 صلى الله آپ مہ کی ایک بھی بیوی نے یہ پسند نہ کیا کہ وہ آنحضرت علی کی جدائی برداشت کر لیں اور دنیا کی دولت لے کر رخصت ہو جائیں۔پیارے صلى الله آقا میے کو سادگی پسند ہے تو سادگی ہی اچھی ہے۔مگر آ نحضور میلے کے لئے تو دونوں جہان کی ہر نعمت پیدا کی گئی تھی پھر آپ ﷺ اتنے سادہ کیوں رہتے