حضرت جویریہؓ

by Other Authors

Page 10 of 19

حضرت جویریہؓ — Page 10

10 تھے؟ اس لئے کہ آپ مدینے کا مقصد تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا تھا۔دنیا کا عیش آپ مے کا مقصد ہی نہیں تھا۔آپ ﷺ فرماتے ہیں۔میرے رب نے الله میرے سامنے یہ اختیار رکھا کہ میرے لئے مکہ کی وادی کو سونے سے بھر دیا جائے میں نے عرض کی نہیں ! اے میرے رب میں تو اس بات پر خوش ہوں کہ ایک دن کچھ کھاؤں تو اگلے دن بھوکا رہوں۔اس لئے کہ جب بھوکا رہوں تو تیری جناب میں تضرع کروں اور تیرے ذکر میں مشغول رہوں اور جب سیر ہوں تو تیرے شکر وحمد سے معمور رہوں۔“ (14) کروڑوں کروڑ درود وسلام ہو اس پیارے نبی ﷺ پر جس نے اختیار ملنے پر دنیا کو چھوڑ کر دین کو مقدم رکھا اور اپنی ازواج کو بھی ایسی تربیت دی کہ اُمت کی ہر عورت کے لئے نمونہ اور مثال بنیں۔کوئی غریب سے غریب، تنگ دست سے تنگ دست، عورت یا مرد یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُن کو ہمارے دُکھوں کا کیا پستہ وہ تو آسائش میں رہتے تھے۔حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول علی کو خوش کرنے کا بہت جذبہ تھا۔وہ اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارتیں انہوں نے اپنے حجرے کے ایک کونے کو عبادت کے لئے مخصوص کر لیا تھا۔صلى الله ایک دن آنحضور علیہ آپ کے گھر تشریف لائے۔صبح کا وقت تھا۔آپ عبادت میں مصروف تھیں۔جب دو پہر کو وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ