جنت کا دروازہ — Page 123
123 ابی بن سلول کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔انصار نے فوراً سمجھ لیا کہ ہمارے ایمان کی آزمائش کا وقت ہے انہوں نے جھگڑاو میں ختم کر دیا اور مہاجرین کے لئے جگہ چھوڑ دی۔مہاجرین نے تو اس وجہ سے جوش نہ دکھایا کہ خودان کے ساتھ جھگڑا تھا مگر انصار میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اس فقرہ کے کہنے کے بعد عبداللہ بن ابی بن سلول زندہ رہنے کے قابل نہیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے بھی اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ میرا باپ اب زندہ رہنے یہ کے قابل نہیں اور وہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کو وہ بات پہنچی ہے جو میرے باپ نے کہی ہے آپ نے فرمایا ہاں پہنچی ہے اس کے بعد اس نے کہا یا رسول اللہ میرے باپ کے اس جرم کی سز اقتل کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے مگر میں ایک عرض کرتا ہوں کہ جب آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیں تو میرے ہاتھ سے اسے قتل کروائیں کیونکہ یا رسول اللہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی اور شخص کے ہاتھ سے وہ قتل ہو اور میر انفس کسی وقت مجھے یہ جوش دلائے کہ وہ سامنے میرے باپ کا قاتل جاتا ہے اس سے بدلہ لے میں چاہتا ہوں کہ میرا باپ میرے ہی ہاتھ سے قتل ہو جائے تا کہ کسی کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔مگر رسول اللہ ﷺ نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے منع فرما دیا۔(سیرت ابن کثیر جلد 2 صفحہ 215 تا 217 حالات غزوہ بنو مصطلق مترجم - مکتبہ قدوسیہ لاہور ) جنگ بدر میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا والد اپنے بیٹے حضرت ابو عبیدہ کی گھات میں نگار ہا مگر ہر دفعہ حضرت ابو عبیدہ ہٹ جاتے اور محفوظ رہتے لیکن جب ان کا والد باز باران کے سامنے آیا تو حضرت ابو عبیدہ نے اسے قتل کر دیا۔مستدرک حاکم کتاب معرفۃ الصحابہ باب حلیۃ ابی عبیده)