جنت کا دروازہ — Page 122
122 مکہ پر چڑھائی کا ارادہ فرمارہے تھے ابوسفیان نے آپ سے اس بارے میں گفتگو کی کہ صلح حدیبیہ کی میعاد میں اضافہ فرما دیں حضور نے قبول نہ فرمایا وہ وہاں سے اٹھے اور اپنی بیٹی اور حرم رسول ام حبیبہ کے پاس گئے جب وہاں پہنچے اور حضور کے بستر مبارک پر بیٹھنا چاہا تو حضرت ام حبیبہ نے اس بستر کو لپیٹ دیا۔ابوسفیان نے کہا اے میری بیٹی کیا تو اس بستر کو مجھ پر ترجیح دیتی ہے؟ حضرت ام حبیبہ نے فرمایا میں بستر کو تم پر ترجیح دیتی ہوں اس لئے کہ یہ حضور کا بستر ہے اور تم مشرک آدمی ہو۔میں اچھا نہیں سمجھتی کہ تم حضور کے بستر پر بیٹھو۔طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 100 بیروت 1958ء) غیرت ایمانی 1 غیرت رسول تو انسان سے وہ وہ کام کراتی ہے کہ عام حالات میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔غزوہ بنو المصطلق کے موقع پر جب رسول کریم ﷺ جنگ سے واپس تشریف لا رہے تھے تو ایک جگہ پر ایک ہی کنواں تھا اور پانی نکالنے والے زیادہ تھے جلدی کی وجہ سے بعض لوگوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔اور بغیر کسی ارادے کے دو پارٹیاں بن گئیں ایک طرف مہاجرین کا گروہ نظر آنے لگا اور ایک طرف انصار کا۔منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اس سے فائد ہ اٹھانے کا ارادہ کیا اور انصار کو مخاطب کر کے بڑے زور سے کہا تم نے خود ہی ان لوگوں کو سر پر چڑھالیا ہے ورنہ ان کی حیثیت کیا تھی کہ ہمیں ذلیل کرتے اب ذرا مدینے واپس پہنچ لینے دو مدینے کا سب سے بڑا معزز آدمی یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نعود بالله من ذلك محمد رسول اللہ مے کو وہاں سے نکال دے گا۔(المنافقون۔9) صحابہ میں گو اس وقت اختلاف اور جوش پیدا ہو گیا تھا مگر عبداللہ بن