جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 64 of 143

جنت کا دروازہ — Page 64

64 دنیا کے ممالک میں یہ خرابی ترقی یافتہ ممالک سے بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ماں کا کام ہے تربیت کرے اور والد اس میں دخل نہیں دیتے۔والد ساتھ مل کر محنت نہیں کرتے اور ماں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جس طرح چاہے ان کو پائے ان کا خیال رکھے نہ رکھے۔والد تو صرف کمانے میں مصروف رہتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں ہم نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔قرآن کریم نے جو دعا سکھائی اس میں یہ بتایا رب ارحمهما (۔) کہ اے میرے اللہ ان دونوں پر اس طرح رحم فرما جس طرح ان دونوں نے رحم کے ساتھ میری تربیت کی۔یعنی ماں اور باپ دونوں اولاد کے لئے محنت کرنے میں ابرابر کے شریک ہونے چاہئیں مگر ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ رحم کے نتیجے میں اور شفقت کے نتیجے میں۔پس اس دعا کو اب دوباره واخفض لهما جناح الذل کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ وہاں پرندوں کی ہی مثال دی گئی ہے کیونکہ جانوروں کی دنیا میں سب سے زیادہ مل کر اولاد کی خدمت کرنے والے پرندے ہیں ان کے مقابل پر کسی اور جانور کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔جس طرح پرندے دونوں مسلسل محنت کرتے ہیں اپنی اولاد کے لئے اس طرح دوسرے جانوروں میں اتنی مکمل مشتر کہ محنت کی مثال نہیں ملتی۔گھونسلہ بنانے میں بھی وہ اسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں۔خوراک مہیا کرنے میں بھی اسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں، بلکہ بسا اوقات آدھا وقت Male یعنی نر پرندہ بیٹھتا ہے اور پھر جہاں تک خوراک مہیا کرنے کا تعلق ہے اس میں بھی دونوں محنت کرتے ہیں مگر یز پرندے کو بعض دفعہ زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے خوراک مہیا کرنے میں تو فرمایا یہ بھی ہمیں اس دعا سے حکمت سمجھ آ گئی کہ صحیح تربیت کرنے میں ماں کے علاوہ باپ کو برابر کا شریک رہنا چاہئے۔اور جہاں ماں اور باپ مل کر اولاد سے حسن سلوک کر رہے ہوں وہاں طلاقیں شاذ کے طور پر