جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 63 of 143

جنت کا دروازہ — Page 63

63 نسل بڑھتے چلے جاتے ہیں بجائے اس کہ وہ کم ہونے لگیں اس لئے یہ دعا جو سکھائی گئی اس کا پس منظر بھی خوب کھول کر بیان فرما دیا گیا اور اس کا جو بیچ کا حصہ ہے وہ ہے واخفض لهما جناح الذل (-) کراے بچو ! تم اپنے والدین کے لئے اس طرح نرمی کے پر پھیلا دو جیسے پرندے اپنے چوزوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں۔یہاں پر کا استعمال اس لئے کیا گیا تا کہ پرندوں کا اپنے بچوں کے ساتھ سلوک ایک تصویر کی صورت میں ہماری نظروں کے سامنے ابھر آئے اور فرمایا کہ اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیارا اور محبت کا سلوک کرو جس طرح پرندے اپنے بچوں کو پالتے ہیں، ان کی نگہداشت کرتے ہیں جو کلیتہ ان کے محتاج ہوتے ہیں۔یہاں دراصل انسانوں سے ہٹ کر پرندوں کی مثال دی گئی ہے۔جناح کا لفظ محاورہ ہے ضروری نہیں کہ پر کے لئے استعمال ہو۔ایک صفت کے بیان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔لیکن کیوں استعمال ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پرندوں کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے کیونکہ پرندوں کے پر ہوتے ہیں۔اور پرندے اپنے بچوں کی بعض دفعہ اس طرح لیبے عرصے تک تربیت کرتے ہیں کہ نہ وہ بچے دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ کھا سکتے ہیں۔ان کی چونچوں کو ٹھونگے مار مار کے وہ خوراک کے لئے کھلواتے ہیں اور جب تک وہ اس لائق نہیں ہو جاتے کہ خود آزاد زندگی بسر کر سکیں۔اس وقت تک پرندوں کے والدین مسلسل محنت کرتے چلے جاتے ہیں۔پھر اس میں ایک اور بھی حکمت ہے کہ دونوں پرندے اپنے بچوں کے لئے محنت کرتے ہیں اور صرف ماں پر نہیں چھوڑا جاتا۔اور قرآن کریم نے جو ہمیں دعا سکھائی اس میں بھی اس مضمون کو کھول دیا گیا ہے آج کل کے جدید معاشروں میں ایک یہ بھی خرابی ہے اور ہمارے قدیم معاشروں میں بھی یہ خرابی ہے بلکہ بعض صورتوں میں تیسری