جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 65 of 143

جنت کا دروازہ — Page 65

65 واقع ہوں گی۔وہ گھر نہیں ٹوٹا کرتے۔اکثر وہی گھر ٹوتے ہیں جہاں اولاد کی تربیت میں دونوں میں سے کسی ایک کا زیادہ دخل ہوتا ہے اور آپس کے تعلقات اس حد تک خراب ہو تے ہیں کہ دونوں بیک وقت اپنی اولاد کی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔اسی وجہ سے ایسی اولادیں پھر بڑی ہو کر زیادہ خراب ہو جایا کرتی ہیں۔بعض دفعہ وہ ماں کی سائیڈ لیتی ہیں کیونکہ ماں نے تربیت اور پیار میں زیادہ حصہ لیا۔بعض دفعہ باپ کے ساتھ تعلق قائم رکھتی ہیں اور ماں کے خلاف ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ماں نے تو ہماری ذمہ داریاں ادا نہیں کیں باپ قربانی کرتا رہا ہے تو اس طرح گھروں کے ٹوٹنے کے احتمالات بھی بڑھ جاتے ہیں۔تربیت کے لئے رحمت ضروری ہے یہ صورت حال پھر بعض دفعہ ایسے خطرناک نتائج پر منتج ہو جاتی ہے جس کے آثار اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں ہر جگہ دکھائی دے رہے ہیں۔کہ اولاد کو اپنے والدین سے خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔یورپ کے بعض علاقوں میں پولیس کی تحقیق کے مطابق تمہیں فیصد گھر ایسے ہیں جہاں بچے اپنے ماں باپ سے محفوظ نہیں ہیں۔یہاں تک کہ جنسی بے راہ روی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔پس جہاں یہ صورت حال ہو وہاں یہ دعا کیسے کام کر سکتی ہے کہ رب ارحمهما (-) یہ ایک ایسے صالح معاشرے کی دعا ہے جہاں والدین نے اپنی اولاد سے محض عام سلوک نہیں کیا۔ذمہ داریاں ہی ادا نہیں کیں بلکہ بے حد رحمت کا سلوک کیا اور ان کی تربیت شفقت سے کی کسی غصے کے ساتھ نہیں کی۔اور تربیت کے لئے رحمت ضروری ہے۔یاد رکھیں جہاں جلد بازی میں انسان غصے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اولاد کو مارنے لگ جاتا ہے اس کو گالیاں دینے لگ جاتا ہے وہاں تربیت کا مضمون غائب چکا ہوتا ہے۔اور نفسانی جوش سے تربیت نہیں ہوا کرتی۔