جنت کا دروازہ — Page 45
45 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں۔میری والدہ مشرکہ تھیں میں انہیں اسلام کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔ایک دن جو میں نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے آنحضور ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کئے میں روتا رو تا خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور تمام واقعہ سنایا آنحضرت ﷺ نے سنا تو زبان مبارک سے یہ فقرہ جاری ہوا۔اللهم اهدام ابى هريره اے اللہ! ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے دے حضرت ابو ہر یہ گھر آئے تو دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند تھا اور پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔والدہ قبل سے فارغ ہوئیں تو یوں گویا ہوئیں اشهد ان لا اله الا الله و اشهدان محمد رسول الله والدہ کے منہ سے کلمہ شہادت سنا تو خوشی سے روتے روتے نبی کریم علی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔والدہ کے قبول اسلام کا واقعہ سنایا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ اب دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری اور میری والدہ کی محبت مومنوں کے دلوں میں پیدا کر دے چنانچہ آپ نے دعا کی۔الاصابه جلد 4 صفحہ 204 از ابن حجر عسقلانی مطبع مصطفی محمد مصر 1939۔دعا کرو حضرت مسیح موعود نے ایک نواحمدی کو تاکید کی کہ وہ اپنے والد کے حق میں جو سخت مخالف ہیں دعا کیا کریں انہوں نے عرض کی کہ حضور میں دعا کیا کرتا ہوں اور حضور کی خدمت میں بھی دعا کے لئے ہمیشہ لکھتا ہوں حضرت اقدس نے فرمایا کہ توجہ سے دعا کرو باپ کی دعا بیٹے کے واسطے اور بیٹے کی باپ کے واسطے قبول ہوا کرتی ہے اگر آپ بھی