جنت کا دروازہ — Page 44
44 تعالیٰ اور اس کے مسیح کی خاطر اپنا وطن اور اقارب کو چھوڑ چھاڑ کر قادیان ڈیرہ آ جما لیا۔اور دنیوی حرص و آز کو خیر باد کہتے ہوئے پشاور کالج کی اعلیٰ ملازمت ترک کر دی۔اور قادیان میں پندرہ روپے کی ملازمت قبول کر لی اور آج تک اپنے بھائیوں سے جدی جائیداد کا حصہ یا اراضی کا غلہ نہیں لیا۔حالانکہ میرا بھی ویسا ہی حق تھا۔جیسا کہ ان کا تھا۔لیکن مجھے تم پر افسوس ہے کہ تم دین چھوڑ کر دنیا کی طرف جانا چاہتے ہو۔حالانکہ تمہیں میری طرح دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہئے تھا۔تم فوراً قادیان واپس آ جاؤ۔باوجود یکہ ابھی ڈیڑھ ماہ کی تعطیلات باقی تھیں میں دوسرے روز ہی وہاں سے قادیان کی طرف روانہ ہو گیا۔( رفقاء احمد جلد 5 حصہ سوم صفحہ 80) مخالف ماں باپ ماں باپ اگر مخالف بھی ہوں اور ( دین حق ) کے علاوہ کسی اور دین کے متبع ہوتب بھی ان کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے اور دنیاوی امور میں جہاں تک ممکن ہو ان کی مدارات ضروری ہے جس میں ان کی ہدایت کی دعا بھی شامل ہے۔حضرت اسماء کی والدہ مشرکہ تھی۔صلح حدیبیہ کے زمانہ میں وہ مکہ سے مدینہ آئیں تو حضرت اسمانہ نے حضور عالے سے پوچھا کہ کیا میں ان سے حسن سلوک کروں تو حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ضرور کرو۔بخاری کتاب الادب باب صلة الوالد المشرك) آنحضرت ﷺ نے اپنے چا اور حضرت علی کے والد ابو طالب کی وفات پر حضرت علی کو ارشاد فرمایا کہ:۔آپ اپنے والد کی تجہیز و تعین کریں غسل دیں اور پھر دفنائیں۔المسيرة الجلبیہ جلد 2 ص 190 از علی بن برہان الدین الحکمی مطبوع محمدعلی صحیح واولاده از هر مصر 1935ء)