جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 120 of 143

جنت کا دروازہ — Page 120

120 لڑکی کے رشتہ پر رضامند نہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ کوئی شخص مجھے اپنی لڑکی کا رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔کیونکہ میری ظاہری شکل وصورت اور رنگ اچھا نہیں عمر و بن وہب قبیلہ بنو ثقیف کے ایک نو مسلم تھے۔جن کی طبیعت میں درشتی تھی۔آنحضرت ا نے حضرت سعد سے فرمایا کہ ان کے دروازے پر جا کر دستک دو اور بعد سلام کہو کہ نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمہاری لڑکی کا رشتہ میرے ساتھ تجویز کیا ہے۔عمرو بن وہب کی لڑکی شکل وصورت کے علاوہ دماغی اور دینی لحاظ سے بھی نمایاں حیثیت رکھتی تھی۔حضرت سعد ان کے مکان پر پہنچے اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا اسی طرح کہا۔عمر و بن وہب نے یہ بات سنی۔تو آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔اور اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا لیکن بات اسی پر ختم نہیں ہوتی۔بلکہ آگے جو کچھ ہوا وہ اس قدر ایمان پرور ہے کہ تمام مذاہب و ملل کی تاریخ اس کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی خود اند راز کی یہ ساری گفتگو سن رہی تھی اس کے باپ نے حضرت سعد کو جو جواب دیا اسے سن کر وہ واپس ہو گئے۔اور اس کے سوا اور وہ کر بھی کیا سکتے تھے لیکن لڑکی خود باہر نکل آئی حضرت سعد کو آواز دے کر واپس بلایا اور کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ آپ کی شادی کی تجویز کی ہے تو پھر اس میں چون و چراں کی کیا گنجائش باقی رہ سکتی ہے؟ یہ تجویز مجھے بسر و چشم منظور ہے اور میں اس چیز پر بخوشی رضا مند ہوں۔جو خدا اور اس کے رسول کو پسند ہے اور ایمانی جرآت سے کام لے کر باپ سے کہا کہ آپ نے آنحضور کی تجویز سے اختلاف کر کے بہت غلطی کی ہے۔اور بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور قبل اس کے کہ وحی الہی آپ کو رسوا کر دے۔اپنی نجات کی فکر کیجئے۔لڑکی کی اس ایمان افروز تقریر کا اس کے باپ پر بھی خاطر خواہ اثر ہوا۔ان کو اپنی غلطی کا