جنت کا دروازہ — Page 121
121 پوری طرح احساس ہو گیا اور فوراً بھاگے ہوئے دربار نبوی میں پہنچے اور عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے بہت بڑی خطا سرزد ہوئی۔مجھے سعد کی بات کا یقین نہ تھا۔اور میں نے خیال کیا کہ وہ یونہی یہ بات کہہ رہے ہیں۔اس لئے انکار کیا۔مگر اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔اور صدق دل سے معافی کا خواستگار ہوں۔میں نے اپنی لڑکی سعد سے بیاہ دی۔(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 268 از ابن اثیر جزری مکتبہ اسلامیہ طہران) قرعہ ڈالا گیا حضرت سعد بن خیثمہ جنگ بدر کے وقت کم عمر تھے۔تا ہم شرکت کے لئے تیار ہو گئے چونکہ آپ کے والد بھی میدان جنگ میں جارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ایک کو ضرور گھر پر رہنا چاہئے اور بیٹے کو گھر رہنے کے لئے کہا۔بیٹے نے جواب دیا کہ اگر حصول جنت کے علاوہ کوئی اور موقعہ ہوتا تو بسر و چشم آپ کے ارشاد کی تعمیل کرتا۔اور اپنے آپ پر آپ کو ترجیح دیتا لیکن اس معاملہ میں ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔آخر فیصلہ اس بات پر ٹھہرا کہ قرعہ ڈال لیا جائے چنانچہ قرعہ میں بیٹے کا نام نکلا اور وہ شریک ہوئے اور شہادت پائی۔(اسد الغابہ جلد 2 صفحه 275 از ابن اثیر جزری مکتبہ اسلامیہ طهران ) قدم شہادت کہ محبت میں ہم نے رکھا ہے مسکرا کر ہمارے سینے کھلے ہوئے ہیں کہاں ہیں تیر آزمانے والے ہے حضور کا بستر ہے اہل مکہ نے جب حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دینے کا اعلان کیا تو اس کے نتائج سوچ کر پریشان ہو گئے سردار قریش ابوسفیان بن حرب مدینہ آئے اور حضور کے پاس پہنچے آپ