جنت کا دروازہ — Page 119
119 جلیبیب کا نام سنا تو انکار کر دیا۔لیکن لڑکی نے کہا رسول اللہ ﷺ کی بات نا منظور نہیں کی جاسکتی مجھے آنحضور کے حوالے کر دو۔آپ مجھے کبھی ضائع نہیں کریں گے۔" (مسند احمد جلد 4 صفحہ 422 المكتب الاسلامی۔بیروت حدیث 18948) دوسری روایت میں ہے۔حضرت جلیبیب اچھی شکل وصورت کے مالک نہ تھے۔آنحضرت ﷺ نے انصار کے ایک معزز گھرانے کی لڑکی کے ساتھ ان کا رشتہ تجویز کیا۔مگر لڑکی کے ماں باپ کو اس پر اعتراض تھا۔لڑکی کو اس کا علم ہوا تو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی۔(احزاب - 37) یعنی کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لئے جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو اپنے معاملہ میں ان کو فیصلہ کا اختیار باقی رہے۔پھر کہا اس صریح حکم خداوندی کے ہوتے ہوئے میں حیران ہوں۔کہ آپ اس تجویز کے کیوں مخالف ہیں۔میں اس رشتہ پر رضامند ہوں۔جو مرضی رسول کریم والے کی ہے۔وہ ہی میری ہے۔رسول کریم لے کو اس کا علم ہوا تو آپ بہت مسرور ہوئے۔اور اس لڑکی کی دینی و دنیاوی فلاح کے لئے دعا کی۔الاستیعاب بر حاشیه اصا به جلد اول صفحه 259 از ابن عبد البر مطبع مصطفی محمد مصر 1939ء) یہ بے غرض اور کچی اطاعت بے شمر نہیں رہتی۔آخرت کا اجر تو ان دیکھا ہے یہ محبت تو اسی دنیا میں رنگ لاتی ہے ایسی عظمتیں عطا کرتی ہے کہ نسلیں فخر کرتی ہیں۔بسر و چشم منظور ہے ایک صحابی حضرت سعد الاسود سیاہ رنگ کے تھے۔ان کی شکل و شباہت ان کی شادی میں روک تھی۔اور ان کی ظاہری بدصورتی کی وجہ سے کوئی شخص ان کے ساتھ اپنی