جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 78 of 143

جنت کا دروازہ — Page 78

78 الله اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ماؤں سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے پھر فرمایا اللہ تعالی تمہیں اپنے آباء سے حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ رشتہ دار اور تعلق داروں ہے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالدین حدیث 3651) حضرت ابن سلامہ السلمی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے تین بار والدہ سے حسن سلوک کا حکم دیا اور چوتھی دفعہ والد کا ذکر فرمایا۔( سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد ین حدیث 3647) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا۔تیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ نے فرمایا۔تیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ نے فرمایا۔تیری ماں۔اس نے چوتھی بار پوچھا۔پھر کون؟ آپ نے فرمایا۔ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔( بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة حديث 5514) اس حدیث کی تشریح میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ فرماتے ہیں۔یہاں جو ماں پر زور دیا گیا ہے مختلف احادیث میں کہیں ماں باپ کا اکٹھا کر آیا ہے کہیں الگ الگ آیا ہے تو اس میں اور امکانات ہیں۔یا تو وہ شخص ماں سے اچھا سلوک نہیں کرتا تھا اس لئے تکرار کے ساتھ بار بار اس کو نصیحت کی گئی کہ تیری ماں۔دوسرے یہ امر واقعہ ہے کہ ماں سے زیادہ بچے سے کوئی پیار نہیں کر سکتا۔ماں سے زیادہ بچے کے لئے کوئی دکھ نہیں اٹھا سکتا۔یہ ایک ایسی پکی بات ہے کہ اس کو حقیقت میں بھی بھلایا جا ہی نہیں سکتا اگر کسی انسان کے دل میں شرافت ہو۔تو ماں اس کو پالتی ہے ماں