جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 77 of 143

جنت کا دروازہ — Page 77

77 اس سے بہت زیادہ وسیع تر معنی عورت کے کردار کے تعلق میں بیان ہوئے ہیں۔اگر ہمارا معاشرہ ہر گھر کو جنت نہیں بنا دیتا تو اس حدیث کی رو سے وہ معاشرہ (دینی) نہیں ہے۔اور اگر جنت کے جہنم بنانے میں مردوں کا قصور ہے تو یہ قصور محض اس وقت کے دائرے میں محدود نہیں جس میں اس کی شادی ہوئی اور ایک عورت کے ساتھ اس نے ازدواجی زندگی بسر کرنی شروع کی بلکہ اس کا تعلق ایک گزرے ہوئے زمانے سے بھی ہے۔اس نے ایسی بد نصیب ماں بھی پائی کہ جس کے قدموں تلے اسے جنت کی بجائے جہنم ملی پس جنت کی خوشخبری سے یہ مراد نہیں کہ لاز م ہر ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔مراد یہ ہے کہ خدا توقع رکھتا ہے کہ اے مسلمان عورتو! تمہارے پاؤں تلے سے جنت پھوٹا کرے اور جہاں تمہارے قدم پڑیں وہ برکت کے قدم پڑیں اور تمہاری اولادیں اور تم سے تربیت پانے والے ایک جنت نشان معاشرے کی تعمیر کریں۔پس اس نقطہ نگاہ سے احمدی خواتین کو بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔بہت کچھ فکر کی ضرورت ہے۔اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اور جتنی (دینی) تعلیمات بعض عیوب سے تعلق رکھتی ہیں یعنی عورت کو بعض باتیں کرنے سے روکتی ہیں اور بعض ادا ئیں اختیار کرنے سے منع فرماتی ہیں ان کا اس حدیث کے مضمون سے بلاشبہ ایک گہرا تعلق ہے۔وہ سب باتیں وہ ہیں جو جنت کو جہنم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔فرمایا۔خطاب جلسہ سالانہ قادیان 27 دسمبر 1991ء سب سے پہلے ماں حضرت مقدام بن معدیکرب بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے تین بار