جنت کا دروازہ — Page 79
79 اس کے لئے ہر قسم کے دکھ برداشت کرتی ہے ہر قسم کی گندگی صاف کرتی ہے اور جس طرح وہ پیار کرتی ہے ویسے کوئی اور رشتہ دار پیار نہیں کر سکتا۔بیوی بھی پیار نہیں کر سکتی۔ایک فرضی حکایت ہے مگر ہے بہت سبق آموز۔کہتے ہیں کہ ایک لڑکے کو اپنی بیوی سے جاہلانہ حد تک عشق تھا اور ایسا جاہلانہ کہ اس کو خوش کرنے کے لئے ہر بیہودہ حرکت کرنے پر بھی تیار تھا۔وہ اپنی ساس سے بہت جلتی تھی۔اور اپنی ساس کو جب پنے بچے سے پیار کرتے ہوئے دیکھتی تھی تو اس سے اس کے دل میں حسد بھڑک اٹھتا تھا۔تو ایک روز اس کی بیوی نے اپنے خاوند سے کہا کہ اگر تم مجھے خوش کرنا چاہتے ہو تو اپنی ماں کا سر طشتری میں سجا کر لاؤ ورنہ میرا خیال چھوڑ دو۔اس بیوقوف بیٹے نے یہ کام کیا کہ طشتری میں اپنی ماں کا سرسجایا جبکہ وہ اپنی بیوی کی طرف آرہا تھا رستے میں ٹھوکر لگی اور اس کہاوت میں یہ ہے کہ اس کا سرزمین پر گر پڑا تو اس سر سے آواز آئی میرے بچے! تجھے چوٹ تو نہیں لگی۔پس ماؤں کے دل ایسے ہوا کرتے ہیں۔اگر چہ یہ کہاوت فرضی ہے مگر ان کے دل ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔پس ماؤں سے جو غیر معمولی حسن سلوک کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بالکل صحیح ہے۔ایسا ہی ہونا چاہئے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ساری جماعت میں ماؤں کی الفضل 2 مئی 2000ء)۔عزت کی جائے گی۔ایک صحابی حضور کے پاس آئے اور کہا مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے حضور نے فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے اس نے عرض کیا نہیں۔تو فرمایا کیا تیری خالہ موجود ہے عرض کیا ہاں تو فرمایا اس کے ساتھ حسن سلوک کر۔( خدا تیرا گناہ بخش دے گا) ترندی کتاب البر والصلہ باب فی بر الخالہ حدیث 1827)