جنت کا دروازہ — Page 35
35 طور پر پیدا نہیں ہو گیا۔اس سے پہلے کوئی اور تھا۔اور اس سے پہلے کوئی اور۔غرض ایک لمبا سلسلہ تھا۔جس سے اللہ تعالٰی کے وجود پر شہادت ملتی ہے۔بغیر تناسل کے اصول کے انسان کا ذہن مبدا کی طرف جاہی نہیں سکتا تھا۔اگر یہ نظام نہ ہوتا تو انسان کو اس لمبی کڑی کی طرف کبھی توجہ ہی نہ ہوتی۔لیکن اس کے ساتھ ہی سلسلہ تناسل یہ بھی بتاتا ہے کہ انسانی پیدائش کی غرض اور اس کا مقصد بہت بڑا ہے پس توحید کے حکم کے بعد والدین کے متعلق احسان کا حکم دیا کیونکہ ایک احسان کی قدر دوسرے احسان کی قدر کی طرف توجہ کو پھراتی ہے۔وبالوالدین احساناً۔اس کا عطف ان پر ہے پورا جملہ یہ ہے ان احسنوا بالوالدین احساناً۔یعنی اللہ تعالٰی نے ایک تو یہ حکم دیا ہے کہ خدا کے سوا کسی کو معبودنہ بناؤ اور ایک یہ کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔اس جملہ میں کیا لطیف رنگ اختیار کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کا انسان بدلہ نہیں دے سکتا۔اس لئے خدا تعالٰی کے ذکر میں یہ بیان کیا کہ احسان تو تم کر نہیں سکتے پس ظلم سے تو بچو۔لیکن والدین کے احسان کا بدلہ دیا جا سکتا ہے۔اس لئے ان کے بارہ میں مثبت حکم دیا۔( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 321 نظارت اشاعت ربوہ ) سر تسلیم خم رہے سید نا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔فلا تقل لهما اف ( ) یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کرو جن میں ان کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔اس آیت کے مخاطب تو آنحضرت لے ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ آپ کی خورد سالی میں ہی فوت ہو چکے تھے اور اس حکم میں