جنت کا دروازہ — Page 36
36 ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب کہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے اور اس کی طرف یہ دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔وقضى ربك الا تعبدوا الا اياه وبالوالدين احساناً یعنی تیرے رب نے چاہا ہے کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔اس آیت میں بت پرستوں کو جو بت کی پوجا کرتے ہیں سمجھایا گیا ہے کہ بہت کچھ نہیں ہیں اور بتوں کا تم پر کچھ احسان نہیں ہے انہوں نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور تمہاری خورد سالی میں وہ تمہارے متکفل نہیں تھے اور اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں اور ہر ایک شخص طبعا یہاں تک کہ درند چرند بھی اپنی اولاد کو ان کی خورد سالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔پس خدا کی ربوبیت کے بعد ان کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ 204-205) قل لهما قولا كريما كا خوبصورت ترجمہ حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایا ہے۔ان سے ایسی باتیں کہو جن میں ان کی بزرگی اور عظمت پائی جائے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ 4) حضرت مسیح موعود کا خط اس ضمن میں حضور کا ایک بہت ہی دل دہلا دینے والا ہے۔شیخ عبدالوہاب صاحب ہندوؤں سے احمدی ہوئے تھے۔اور ان کی دعوت الی اللہ سے والدہ بھی احمدی ہو گئیں۔شیخ صاحب نے شادی کرنا چاہی تو والدہ نے اس