جنت کا دروازہ — Page 34
34 پڑھا ہوگا جس میں ان کے لئے دعا نہ کی ہو۔جس قدر بچہ نیک بنے ماں باپ کو راحت پہنچتی ہے اور وہ اسی دنیا میں بہشتی زندگی بسر کرتے ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان 24 فروری 1910ء) سیدنا حضرت مصلح موعود نے اس مضمون پر یوں روشنی ڈالی ہے۔وبالوالدين احسانا کا حکم دے کر والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم بیان کیا ہے۔کیونکہ والدین کا احسان خدا تعالیٰ کے احسان کاظل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان حقیقی ہوتا ہے اور باقی سب احسان غلطی ہوتے ہیں۔اور چونکہ والدین بھی اپنی اولاد کے لئے خدا تعالیٰ کی صفات کے ایک رنگ میں مظہر ہوتے ہیں۔اس لئے توحید کے ذکر کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر فرمایا ہے۔و بالوالدین احسانا سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ والدین سے سلوک بھی احسان کے معروف معنوں میں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔کیونکہ اس آیت میں احسان کا لفظ عام معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک اور معنی میں استعمال ہوا ہے۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کسی امر کے بدلہ کے لئے بھی وہی لفظ استعمال کر دیا جاتا ہے۔جیسے ظلم کے بدلہ کا نام بھی ظلم رکھ دیا جاتا ہے اور اس سے مراد ظلم نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی صرف ظلم کا بدلہ لینے کے ہوتے ہیں۔( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 6 نظارت اشاعت ربوہ 1963ء) پھر فرمایا:۔توحید پر یقین رکھنے کا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔کیونکہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف ہی توجہ دلاتے ہیں۔وہ طبعی قانون کا ایک ایسا ظہور ہیں جو قانون شریعت کی طرف لے جاتا ہے۔کیونکہ وہ مبدی ( پیدا کرنے والی ذات) پر دلالت کرتے ہیں۔والدین کے ذریعہ سے پیدائش بتاتی ہے کہ انسان اتفاقی