جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 111 of 143

جنت کا دروازہ — Page 111

111 لیکن موت حائل ہو گئی۔اب اس کو جاری رکھنا منع نہیں۔اس لئے جماعت میں اپنے بزرگوں کی طرف سے چندے دینا جائز سمجھا جاتا ہے اور اس کو کثرت سے رواج دیا جاتا ہے۔چنانچہ ہم بھی اپنے ماں باپ کی طرف سے چندے دیتے ہیں۔اس لئے کہ وہ دیتے تھے۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ناد ہند کا چندہ میں دینا شروع کر دوں اس کا اسے ثواب ملے گا تو یہ لغو بات ہے۔ایک آدی خود تو ساری عمر چندہ نہ دیتا ہو۔اور اس کا بچہ مخلص بن جائے اور کہے میں اپنے باپ کے چندے پورے کروں گا تو وہ اس بچہ کے نام لگیں گے اس کے نادہند بزرگ کے نام نہیں لگیں گے تو جواز اس بات کا ہے کہ کسی سے جو نیکی ثابت ہو خصوصاً جو منفعت بخش نیکی ہو اس کو آگے جاری رکھنا جائز ہے اور اس کا ثواب بھی مل جاتا ہے۔(مجالس عرفان 138 شائع کردو لجنہ اماءاللہ کراچی ) والدین کے دوستوں سے حسن سلوک حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان کی بہترین نیکی یہ ہے کہ اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔جبکہ اس کا والد فوت ہو چکا ہو یا کسی اور جگہ چلا گیا ہو۔مسلم كتاب البر والصلة والادب باب فضل صلة اصدقاء الاب والام و نحوها حديث 4631) حضرت عبداللہ بن عمر ایک سفر میں تھے کہ راستہ میں ایک اعرابی ملا۔حضرت عبداللہ نے اسے سلام کیا۔اور جس گدھے پر سفر کر رہے تھے اس سے اتر پڑے اور اس بدو کو اس پر سوار کر دیا۔اور اپنے سر پر باندھا ہوا عمامہ بھی اس کو دے دیا۔کسی نے کہا یا عرابی تو تھوڑی تھوڑی چیزوں پر بھی راضی ہو جاتے ہیں آپ نے بہت زیادہ دے دیا۔