جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 112 of 143

جنت کا دروازہ — Page 112

112 انہوں نے فرمایا اس کا والد میرے والد عمر کا دوست تھا اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے باپ کے دوست کی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا بڑی اعلیٰ نیکی ہے۔مسلم كتاب البر والصلة باب فضل صلة۔اصدقاء الاب حديث 4629) صحابی رسول ﷺ حضرت ابوالدرداء مرض الموت میں مبتلا تھے۔کہ عبداللہ بن سلام کے بیٹے یوسف ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔حضرت ابوالدرداء نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟ تو انہوں نے عرض کی میرے والد سے آپ کے جو دوستانہ تعلقات تھے ان کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں۔(مسند احمد بن مقبل جلد 6 صفحہ 450 المكتب الاسلامی بیروت حدیث نمبر 26266) نیک اور بزرگ والدین کے وفات کے بعد ان کے ساتھ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ ان کی نیکیوں کو قائم رکھا جائے اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔اس ضمن میں سید نا حضرت مصلح موعود کا نمونہ لائق صد آفریں ہے۔آپ حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔آپ کی وفات کے معا بعد کچھ لوگ گھبرائے کہ اپ کیا ہوگا۔انسان انسانوں پر نگاہ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دیکھو یہ کام کرنے والا موجود تھا یہ تو اب فوت ہو گیا۔اب سلسلہ کا کیا بنے گا ؟ جب اس طرح بعض لوگ مجھے پریشان حال دکھائی دیئے اور میں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ اب جماعت کا کیا حال ہو گا تو مجھے یاد ہے گو میں اس وقت 19 سال کا تھا مگر میں نے اس جگہ حضرت مسیح موعود کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا کہ۔اے خدا! میں تجھ کو حاضر ناظر جان کو تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ تو نے نازل فرمایا ہے میں اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ؤں گا۔“ روز نامہ الفضل 21 جون 1944ء) پھر آپ نے جس شان اور عظمت کے ساتھ یہ عہد نبھایا ہے دنیا اس پر گواہ ہے۔