جماعت احمدیہ کی ملی خدمات — Page 120
اور دیگر چوٹی کے مسلم اکا برنے مجھے نمائندہ بنا کر بھیجا کہ حضرت صاحب سے اس باب میں تفصیلی بات چیت گروں اور اسلام کے خلاف اس فتنے کے تدارک کے لئے اُن کی ہدایات لئے ہدا حاصل کروں۔بریشن بہت خفیہ تھا کیونکہ ہندوستان کے چوٹی کے مسلمان اکا بر جہاں سمجھتے تھے کہ ہندوؤں کے اُس ناپاک منصوبے کا موثر جواب لمانوں کی طرف سے صرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد د رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی دے سکتے ہیں۔وہاں وہ عام مسلمانوں پر یہ ظا ہر کرنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ حضرت صاحب کو اپنا امیر سلیم کرتے ہیں۔میں اس سلسلے میں قادیان تین دن مقیم رہا اور حضرت صاحب سے کئی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ران ملاقاتوں میں دو باتیں مجھ پر واضح ہو گئیں دوبات ایت یہ کہ حضرت صاحب کو اسلام اور حضور سرور کائنات علیہ السّلام سے