جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 380
380 مبلغ کو چاہئے کہ وہ نومبائعین کی تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام کرے نیز اس بات کو یقینی بنائے کہ نو مبائعین اپنے فرائض کو بخوبی سمجھنے والے ہوں۔مبلغ کو چاہئے کہ وہ قرآن کریم ، حدیث ، ملفوظات حضرت مسیح موعود کے درس کا انتظام کرے۔مبلغ کو چاہئے کہ وہ تعلیم القرآن کا ضرور انتظام کرے اور جہاں اس کا قیام ہو وہاں پر تعلیم القرآن کلاس کا اجراء کرے۔اسی طرح مبلغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے ریجن میں تعلیم القرآن کلاسز کا انعقاد باقاعدگی سے ہو۔تعلیم القرآن کلاس کے مقاصد درج ذیل ہیں۔(الف) احباب جماعت کو قرآن کریم ناظرہ سکھانا۔(ب) احباب جماعت کو ترجمہ کے ساتھ قرآن کریم سکھانا۔(ج) قرآن کریم ناظرہ اور ترجمہ سکھانے کے لئے اساتذہ تیار کرنا۔مبلغ کو چاہئے کہ وہ احباب جماعت کو تمام مذہبی رسوم بجالانے کی تربیت دے۔۱۳ مبلغ کو چاہئے کہ وہ حکمت اور نرمی سے احباب جماعت کے باہمی لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ان کی مدد کرے۔۱۴۔مبلغ کو ہمیشہ جماعتی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینی چاہئے۔۱۵ مبلغ کو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونا چاہئے اور کسی بھی صورت جانبداری کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔مبلغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جماعت میں نظم وضبط اور اتحاد ہر صورت قائم رہے۔۱۶۔مبلغ کو اپنے سوشل تعلقات کو بڑھانا چاہئے۔۱۷۔مبلغ کو چاہئے کہ وہ اسلام اور احمدیت کے خلاف پروپیگنڈا مہم سے پوری طرح باخبر ہو۔نیز اس کا جواب بھی دے۔اسی طرح اس کو مختلف طبقات میں جماعت سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔۱۸ مبلغ کو حسب ضرورت معاملات تبلیغی اور تربیتی سیمینارز منعقد کروانے چاہئیں۔اور میڈیا کو بھر پور طریقے سے استعمال میں لانا چاہئے۔۱۹ مبلغ کو ذاتی فوائد کے لئے ہر قسم کے کاروبار اور پیشے سے اعراض کرنا چاہئے۔۲۰ مبلغ کو کسی نئے ملک میں جانے سے پہلے وہاں کے حالات سے اپنے آپ کو باخبر کرنا چاہئے۔۲۱۔مبلغ کو احمدیت کے مشن کے ساتھ مخلص ہونا چاہئے۔اور کسی ایسے کام کا حصہ نہیں بنا چاہئے جو جماعت کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہو۔نیز اسے امیر دمشنری انچارج کی مکمل اطاعت کرنی چاہیئے۔