جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 321
321 طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے نام مبارک سے منسوب اور سید نا حضرت خلیفتہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زریں ہدایات کے تحت تعمیر ہونے والا طا ہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ احاطہ فضل عمر ہسپتال ربوہ میں قائم ہے جو چھ منزلوں پر مشتمل ہے اور ایک لاکھ ۲۰ ہزار ۴۵۷ مربع فٹ مسقف حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔اس کا شعبہ آؤٹ ڈور ۵ ستمبر ۲۰۰۷ ء سے مریضوں کے لئے کھولا گیا۔یکم اکتوبر ۲۰۰۷ء سے انڈور (Indoor) مریضان اور ایمر جنسی شعبہ کا آغاز ہوا۔۱۵ نومبر ۲۰۰۷ء سے ڈائیگناسٹک اینڈ انٹرویشنل پروسیجرز یعنی اینجیو گرافی ، انجیو پلاسٹی اور پیس میکر کے تحت ہونے والے آپریشنز کی تعداد اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زائد ہوچکی ہے۔پاکستان کے چند بڑے دل کے ہسپتالوں میں شمار ہونے والے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ نے اتنے کم وقت میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور صرف ترقی کی منازل ہی طے نہیں کیں بلکہ معیاری آلات اور سامان کی وجہ سے پاکستان بھر میں بہت جلد شہرت حاصل کر چکا ہے۔اسی لئے پاکستان کے دور ونزدیک کے چھوٹے بڑے شہروں سے مریض یہاں آتے ہیں اور شفا پا کر جاتے ہیں۔یہ تمام کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل ، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں، براہ راست نگرانی ، اس پراجیکٹ کیلئے مالی قربانی کرنے والوں اور محترم پروفیسر ڈاکٹر میجر جنرل (ر) محمد مسعود الحسن نوری صاحب ( پاک فوج کے مشہور ماہر امراض قلب و تمغہ امتیاز ملٹری ایڈ منسٹر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ اور ان کی ٹیم کی دن رات انتھک محنت اور لگن کی وجہ سے ہے۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ امریکہ کے موقع پر اپنے اختتامی خطاب فرموده ۲۲ جون ۲۰۰۸ء میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کا ذکر فرمایا۔حضور انور نے فرمایا طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ کی تعمیر میں جماعت احمدیہ امریکہ نے ۶۰ فیصد سے زیادہ مالی قربانی میں حصہ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔یہ ہسپتال ضرورت مندوں اور مستحقین کے لئے بنایا گیا ہے۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۰۹ء کے موقع پر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی کارکردگی اور اس ہسپتال کے لئے ڈاکٹر ز کو وقف کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔’اس حوالے سے میں احمدی ڈاکٹروں کو ایک یہ تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان میں بھی