جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 159
159 خلافت ثانیہ کے شیریں ثمرات ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق مخلصین جماعت احمدیہ کی دردمندانہ دعاؤں کے ساتھ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود کی پُر در داور مقبول دعاؤں کا عظیم ثمرہ تھے۔آپ کا وجود قبولیت دعا کا ایک زندہ اور مجسم معجزہ تھا۔دعاؤں کے ساتھ آپ کو ایک عجیب نسبت تھی۔دعاؤں نے آپ کو خلعت وجود بخشا دعائیں ہی آپ کا سرمایہ حیات رہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کو خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی نہایت مشکل اور صبر آزما حالات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر مشکل وقت میں اپنے خاص فضل اور رحم کا سہارا دیا اور خطر ناک سے خطرناک وادی سے آپ اپنی جماعت کو نہایت کامیابی اور کامرانی سے بچاتے ہوئے فتح و نصرت کی نئی منازل کی طرف بڑھتے چلے گئے۔دوست تو الگ رہے اولوالعزمی کے اس پیکر کو وہ مشاہیر بھی خراج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکے جو دوستوں کے زمرہ میں بھی شامل نہ تھے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی شدید مخالفانہ حالات میں آپ کے ثبات قدم سے متاثر ہو کر لکھتے ہیں کہ:۔مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان سے کام کر کے اپنی مغلی جوانمردی کو ثابت کر دیا۔لاریب آپ نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان سے کام کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک ”صاحب شکوہ اور اولوالعزم مرد تھے جس کے سر پر خدا کا سایہ تھا۔خلافت ثانیہ کا مبارک دور ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو شروع ہوا اور ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کوختم ہوا۔گویا خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ دور تقریباً باون سال تک جاری رہا اس عرصہ میں حضور نے اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی ترقی کے لئے اتنے کارنامے سرانجام دیئے اور ان کے اتنے عظیم الشان نتائج نکلے کہ اس کتاب میں ان کو گنوانا بھی ممکن نہ ہوگا۔لیکن میں یہاں پر آپ کے دور خلافت میں رونما ہونے والے اہم حالات و واقعات اور ترقیات سلسلہ کی کچھ جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔