جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 158 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 158

158 انہیں تحریک کی کہ آپ کو ہندوستانی مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے واپس وطن آجانا چاہئے۔چنانچہ قائد اعظم واپس تشریف لے آئے اور آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے مسلمانوں کو جمع کرکے پاکستان حاصل کرنے کی جدو جہد شروع کی جسے خدا تعالیٰ نے کامیابی عطافرمائی۔۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم کے وقت کئی ایسے نازک وقت آئے جبکہ بظاہر معمولی سی غلطی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو بہت نقصان کا خطرہ تھا۔ایسے نازک موقعوں پر بھی حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے قائد اعظم کی پوری پوری مدد کی اور پاکستان قائم کرنے کی جدوجہد میں حصہ لیا۔جماعت کے نام وصیت پہلے ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے موقع پر اور پھر ۱۹۵۸ء میں اپنی بڑھتی ہوئی بیماری کو مدنظر رکھ کر حضور نے وصیت کے رنگ میں جماعت کے نام کئی پیغام تحریر فرمائے جنہیں پڑھنا اور یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔صرف ایک پیغام کا ایک حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے جو حضور نے اگست ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے موقع پر تحریر فرمایا تھا۔احباب کو چاہئے کہ اسے بار بار پڑھیں۔اسے یاد رکھیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کے قدم کو ڈگمگانے سے محفوظ رکھے۔سلسلہ کا جھنڈا نیچانہ ہو۔اسلام کی آواز پست نہ ہو۔خدا کا نام ماند نہ پڑے۔قرآن سیکھو اور حدیث سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ اور خود عمل کرو اور دوسروں سے عمل کراؤ زندگیاں وقف کرنے والے ہمیشہ تم میں ہوتے رہیں۔۔۔خلافت زندہ رہے اور اس کے گرد جان دینے کے لئے ہر مومن آمادہ کھڑا ہو۔صداقت تمہارا زیور ، امانت تمہارا حسن اور تقویٰ تمہارا لباس ہو۔خدا تمہارا ہو اور تم اس کے ہو۔آمین! (الفضل اانومبر ۱۹۶۵ء) کریمانہ اے عمر تیرے اوصاف یاد آ کے بناتے ہیں ہر روح کو دیوانه ڈھونڈیں تو کہاں ڈھونڈیں پائیں تو کہاں پائیں سلطان بیاں تیرا انداز خطیبانہ قدرت نے جو بخشا تھا اک نور سکوں دل کو آنکھوں او جهل ہے وہ نرگس مستانه (مبارک احمد عابد )