جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 65
65 سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کو چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ وہ میری طرف آدیں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کے بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لئے برکت دے گا۔بشرطیکہ وہ ربانی شرائط پر چلنے کے لئے دل و جان سے تیار ہوں۔یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچادیا ہے۔اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے:۔إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ۔“ یعنی جب تو عزم کرے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے تحت ( نظام جماعت کی کشتی تیار کر جولوگ تیرے ہاتھ پر بیعت کریں گے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہو گا۔“ (اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ ص ۲ تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۴۵) حضرت اقدس کے اشتہار پر جموں، خوست، بھیرہ، سیالکوٹ، گورداسپور ، گوجرانوالہ، پٹیالہ، جالندھر، مالیر کوٹلہ ،انبالہ، کپورتھلہ اور میرٹھ وغیرہ اضلاع سے متعد مخلصین لدھیانہ پہنچ گئے۔بیعت اولیٰ کا آغاز لدھیانہ میں (حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب کی روایت کے مطابق ) ۲۰ رجب ۱۳۱۰ھ بمطابق ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت صوفی احمد جان کے مکان واقعہ محلہ جدید میں ہوا۔وہیں بیعت کے تاریخی ریکارڈ کے لئے ایک رجسٹر تیار ہوا جس کی پیشانی پر یہ لکھا گیا:۔وو بیعت تو بہ برائے حصول تقوی وطہارت رجسٹر میں ایک نقشہ تھا جس میں نام، ولدیت اور سکونت درج کی جاتی تھی۔(سیرت المہدی حصہ اول ص ۷۶ ۷۷ روایت نمبر ۹۲ طبع ثانی ۱۹۳۵ء) حضرت اقدس بیعت لینے کے لئے مکان کی ایک کچی کوٹھڑی میں (جو بعد میں دار البیعت“ کے نام سے موسوم ہوئی ) بیٹھ گئے اور دروازے پر حافظ حامد علی صاحب کو مقرر فر مایا اور انہیں ہدایت دی کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے کمرہ میں بلاتے جاؤ۔چنانچہ آپ نے سب سے پہلے حضرت مولانا نورالدین صاحب کو بلوایا۔حضرت اقدس نے مولانا کا ہاتھ کلائی پر سے زور سے پکڑا اور لمبی بیعت لی۔ان دنوں بیعت کے الفاظ یہ تھے:۔