جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 64 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 64

64 یعنی اگر ایمان ثریا ستارے پر چلا گیا تو ان (فارسی النسل ) لوگوں میں سے ایک آدمی یا بعض لوگ اس کو دوبارہ واپس لائیں گے۔پس مندرجہ بالا تمام روایات کے پیش نظر ضروری تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اس مشن کی تکمیل کے لئے صحابہ کے رنگ میں رنگین ایک جماعت قائم کرتے جو آپ کی وفات کے بعد بھی اس سلسلہ کو جاری رکھتی۔چنانچہ اس سلسلہ میں خود بانی سلسلہ نے فرمایا:۔یہ ایک ایسا مبارک زمانہ ہے کہ فضل اور جو الہی نے مقرر کر رکھا ہے کہ یہ زمانہ پھر لوگوں کوصحابہ کے رنگ میں لائے گا۔“ اسی طرح اپنے ایک منظوم کلام میں فرمایا : وقت (تحفہ گولر و یه ص ۱۳۲) مسیح دنیا میں آیا خدا نے عہد دن ہے دکھایا ایمان وہ 3, เป صحاب مجھ کو پایا اگرد مبارک ހނ وہی کے ان کو ساقی نے پلا دی فَسُبَحُ انَ الَّذِي أُخْرَى الْأَعَادِي اعلان بیعت (در مشین اردو) چھ مخلصین کے قلوب میں برسوں سے یہ تحریک جاری تھی کہ حضرت اقدس بیعت لیں مگر حضرت اقدس ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ ”لَستُ بِمَا مُورٍ “ (یعنی میں مامور نہیں ہوں ) چنانچہ ایک دفعہ آپ نے میر عباس علی صاحب کی معرفت مولوی عبد القادر صاحب کو صاف صاف لکھا کہ اس عاجز کی فطرت پر توحید اور تفویض الی اللہ غالب ہے اور چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں۔لیکن یکم دسمبر ۱۸۸۸ءکو تبلیغ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں آپ نے تحریر فرمایا:۔میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچانا چاہتا۔۔ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان کچی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کے راہ