جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 367
367 غیر ممالک میں پہنچ گئے۔درجنوں تعلیم یافتہ نو جوانوں نے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر دیں۔اور بیرونی ممالک میں پہنچ کر نہایت ہی قلیل گزارہ پر اشاعت دین حق میں مصروف ہو گئے۔پھر حضور نے اپنے مطالبات میں سب سے پہلے مطالبہ سادہ زندگی گزارنے کا بھی کیا تھا۔جو ہماری تہذیب و تمدن کی عمارت میں بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔جماعت کے مخلصین نے اس مطالبہ کے مطابق کھانے ، لباس ، علاج اور سینما وغیرہ کے بارہ میں اپنے پیارے امام کی ہدایت پر سختی سے عمل کیا۔کھانے میں تکلفات یکسر ختم کر دیئے۔بعض نے دو دو، تین تین سال تک کوئی نیا کپڑا نہ بنوایا۔چنانچہ امرتسر سے چھپنے والے رنگین اخبار کے سکھ ایڈیٹر ارجن سنگھ عاجز نے کہا کہ:۔احمدیوں کا امام ان کی گھریلو زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور وقتاً فوقتاً ایسے احکام صادر کرتا ہے جن پر عمل کرنے سے خوشی کی زندگی بسر ہو سکے۔میں یہاں ان کے امام کے چند احکام کا ذکر کرتا ہوں۔جن سے اندازہ ہو سکے گا کہ یہ جماعت کیوں ترقی کر رہی ہے۔امام جماعت نے حال ہی میں جو پروگرام اپنے پیروؤں کے سامنے رکھا ہے ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ ہر بڑے یا چھوٹے امیر یا غریب کے دستر خوان پر ایک سے زیادہ کھانا نہ ہو۔یہ حکم طبی اور اقتصادی پہلوؤں سے پر کھنے کے بعد شاندار نتائج کا ذمہ دار ثابت ہو سکتا ہے۔یوں تو ہر ایک ریفارمر اور عقلمند اپنے پیروؤں کو اس قسم کا حکم دے سکتا ہے لیکن کو نسار یفار مرہے جو دعویٰ سے کہہ سکے کہ اس کے سو فیصدی مرید اس کے ایسے حکم کی پوری تعمیل کرنے کے لئے حاضر ہوں گے۔صرف امام قادیان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے ایسے مریدوں نے جن کے دستر خوان پر درجنوں کھانے ہوتے تھے اپنے امام کے حکم کے ماتحت اپنے رویہ میں فوری تبدیلی کر لی ہے۔اور آج کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ کوئی احمدی اپنے امام کے اس آرڈر کی خلاف ورزی کر رہا ہو (سیر قادیان ص ۷ ۱ تا ۲۰ بحواله تاریخ احمدیت جلد ہشتم ص ۴۱ - ۴۲) 66 پس یہ تحریک بہت ہی بابرکت ہوئی اس کی وجہ سے دنیا کے بہت سے ممالک میں تبلیغی مشن قائم ہوئے۔لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔کئی زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمے ہوئے۔جماعت میں قربانی اور اخلاص کی ایک لہر پیدا ہوگئی۔چندہ تحریک جدید نے ایک مستقل شکل اختیار کر لی۔چنانچہ یہ چندہ جس کا ابتدائی مطالبہ صرف ساڑھے ستائیس ہزار روپے تھا اب خدا کے فضل سے اس کا بجٹ کروڑوں میں ہوتا ہے۔وقف کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔وقف کرنے والے خوش نصیب اصحاب میں سے چند نو جوانوں کو بیرونی ممالک میں بھجوانے کے لئے منتخب فرمایا۔یہ مجاہدین جن کو تحریک جدید کا ہر وال دستہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا حسب ذیل ہیں:۔