جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 366
366 دیں گے کہ اس کا حق ملنا چاہئے۔اسی طرح ہماری جماعت کے چند افراد یہ عہد کر لیں کہ ہم دیانت و امانت کو قائم کریں گے اور جہاں پتہ لگے گا کہ کسی کی حق تلفی ہورہی ہے۔چاہے کوئی پوچھے یا نہ پوچھے ہم چودھری بن کر جا پہنچیں گے اور کوشش کریں گے کہ مظلوم کا حق دلایا جائے۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۱۴ جولائی ۱۹۴۴ء مطبوعه الفضل ۲۲ جولائی ۱۹۴۴ء) ان مطالبات میں درج ذیل تین مطالبات نمایاں ہیں :۔ا تبلیغ دین کے لئے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں۔۲۔احمدی ایک خاص چندہ میں حصہ لیں جس کے ذریعہ دین حق کی بیرونی ممالک میں اشاعت کی جائے گی۔اس چندہ کو چندہ تحریک جدید کہتے ہیں۔تمام احمدی سادہ زندگی اختیار کریں۔حتی الامکان ایک کھانا کھائیں۔سادہ لباس پہنیں وغیرہ۔ان باتوں کی اصل غرض یہ تھی کہ ہم اپنے اخراجات کو کم کر کے زیادہ سے زیادہ رقم جمع کر کے چندہ میں دے سکیں۔مخلصین جماعت نے جس والہانہ انداز میں اپنے محبوب امام کی آواز پر لبیک کہا وہ جماعت کے اخلاص کا ایک غیر معمولی نمونہ تھا۔حضور نے احباب جماعت سے ستائیس ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی رقم تھی۔مگر حضور کی دعاؤں سے مخلصین جماعت نے ستائیس ہزار روپے کی بجائے ایک لاکھ دس ہزار روپے پیش کر دئے۔جماعت کی اس غیر معمولی قربانی کے جذبہ نے اپنے تو اپنے دشمنان احمدیت کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔چنانچه مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار نے ۲۳ اپریل ۱۹۳۵ء کو ایک تقریر کے دوران تحریک جدید کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا:۔” جہاں ہم میاں محمود کے دشمن ہیں وہاں ہم اس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔دیکھو اس نے اپنی جماعت کو جو ہندوستان میں ایک تنکے کی مانند ہے کہا کہ مجھے ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ چاہئے۔جماعت نے ایک لاکھ دے دیا۔اس کے بعد گیارہ ہزار کا مطالبہ کیا تو اسے دگنا تگنا دے دیا۔“ (الفضل ۲۶ / اپریل ۱۹۳۹ء) مالی قربانی کے علاوہ دوسرے مطالبات پر بھی افراد جماعت نے جس جذبہ اطاعت کے ساتھ اپنے پیارے امام کی آواز پر لبیک کہا وہ تاریخ احمدیت کا ایک سنہری باب ہے۔حضور کے مطالبہ پر کہ بے کارنو جوان باہر غیر ممالک میں نکل جائیں۔کئی نوجوان اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور نامساعد حالات کے باوجود