جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 368
368 ا۔مولوی غلام حسین ایاز صاحب ۲۔چوہدری عبد الغفور صاحب ۳۔چوہدری محمد اسحق صاحب سیالکوٹی صوفی عبد القدیر نیاز صاحب ۵۔حافظ مولوی عبد الغفور جالندھری صاحب ۶۔چوہدری حاجی احمد خاں ایاز صاحب ۸ - مولوی رمضان علی صاحب ے۔محمد ابراہیم ناصر صاحب ۹۔ملک شریف احمد صاحب آف گجرات ۱۰۔مولوی محمد دین صاحب ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۸ص۷۴ ) اور اب تک جو ۱۹۸ ممالک میں حضرت مسیح و مہدی موعود علیہ السلام کے درخت وجود کی سرسبز شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔ان کے قیام میں زیادہ حصہ مجاہدین تحریک جدید کونصیب ہوا ہے۔الحمدللہ علی ذالک۔تحریک جدید کی برکات کی دیگر مفصل تفصیل اس کتاب کے باب نمبر ۱۴ میں دی گئی ہے۔تحریک جدید انجمن احمدیہ کا نظام تحریک جدید جیسی عظیم الشان اور عالمی تحریک کے دفتر کا آغاز نہایت مختصر صورت اور بظاہر معمولی حالت میں ہوا۔شروع میں اس کے لئے کوئی مستقل عمارت نہیں تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی منظوری سے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری قادیان کا ایک کمرہ مخصوص کیا گیا۔تحریک جدید کے سب سے پہلے واقف زندگی کارکن مرزا محمد یعقوب صاحب تھے جن کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے نومبر ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کے مختلف مطالبات پر لبیک کہنے والوں اور زندگی وقف کرنے والوں کی فہرست تیار کرنے کا کام سپر دفرمایا تھا۔مستقل دفتر کا قیام اور اس کے پہلے انچارج تحریک جدید کے دفتر کا مستقل صورت میں قیام آخر جنوری ۱۹۳۵ء میں ہوا جبکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مولوی عبد الرحمن صاحب انور بوتالوی کو انچارج تحریک جدید مقر فر مایا اور قصر خلافت قادیان کے ایک کمرہ میں جو چوبی سیڑھیوں سے ملحق تھا دفتر تحریک جدید قائم کیا گیا جوکئی سال تک دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے اس کمرہ ہی میں رہا۔بعد ازاں جب کام وسعت اختیار کر گیا تو حضرت سید ناصر شاہ صاحب کے ایک حصہ مکان میں بیرونی مشنوں اور تجارتی شعبہ کا دفتر کھول دیا گیا۔مگر جب یہ جگہ بھی ناکافی ثابت ہوئی تو حضرت شاہ صاحب کے مکان سے متصل زمین میں تحریک جدید کی اپنی مستقل عمارت تعمیر کی گئی۔جہاں ۱۹۴۷ء تک تحریک جدید