جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 646
646 خَاطِئِينَ۔جَلَابِيبُ الصِّدْقِ۔فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ۔اَلْخَوَارِقُ تَحْتَ مُنْتَهَى صِدْقِ الَا قدَامِ كُنْ لِلَّهِ جَمِيعًا وَمَعَ اللهِ جَمِيعًا۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبَّكَ مُقَامًا مَّحْمُودًا۔(ترجمہ: یعنی میں فتاح ہوں تجھے فتح دوں گا۔ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور منکر یعنی بعض اُن کے جن کی قسمت میں ہدایت مقدر ہے اپنے سجدہ گاہوں پر گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش ہم خطا پر تھے۔یہ صدق کے جلابیب ہیں جو ظاہر ہوں گے سوجیسا کہ تجھے حکم کیا گیا ہے استقامت اختیار کر۔خوارق یعنی کرامات اُس محل پر ظاہر ہوتی ہیں جو ان انتہائی درجہ صدق اقدام کا ہے۔تو سارا خدا کے لئے ہو جا۔تو سارا خدا کے ساتھ ہو جا۔خدا تجھے اُس مقام پر اٹھائے گا جس میں تو تعریف کیا گیا ہے۔) اور ایک الہام میں چند دفعہ تکرار اور کسی قدر اختلاف الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت دکھ دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اب اے مولویو! اے بخل کی سرشت والو! اگر طاقت ہے۔تو خدا تعالیٰ کی ان پیشگوئیوں کو ٹال کر دکھلاؤ۔ہر ایک قسم کے فریب کام میں لاؤ اور کوئی فریب اٹھا نہ رکھو۔پھر دیکھو کہ آخر خد تعالی کا ہاتھ غالب رہتا ہے یا تمہارا۔والسلام عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - ( تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۹۲) ۳۔فرمایا ” چند روز ہوئے کہ خداوند کریم کی طرف سے ایک اور الہام ہوا تھا:۔قُلْ اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُحْيِيكُمُ اللَّهُ إِنِّي مُتَوَفِيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ۔وجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔وَقَالُوا أَنَّى لَكَ هَذَا۔قَالَ هُوَ اللهُ عَجِيْبٌ يَحْبَتَبِى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَا وِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ۔ترجمہ:۔کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے گا۔میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔اور میں تیرے تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا؟ کہ وہ خدا عجیب ہے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔اور یہ آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ بار بار الہام ہوئی اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے۔اور اس قدر زور سے ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہو گئی۔اس سے یقینا معلوم ہوا کہ خدا وند کریم ان سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا۔اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا۔اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم