جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 645
645 اور جاوا میں بھی۔اس کے علاوہ برلن شکا گو اور لنڈن میں بھی ان کے تبلیغی مشن قائم ہیں۔ان کے مبلغین نے خاص کوشش کی ہے کہ یورپ کے لوگ اسلام قبول کریں اور اس میں انہیں معتد بہ کامیابی بھی ہوئی ہے۔ان کے لٹریچر میں اسلام کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جونو تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے باعث کشش ہے اور اس طریق پر نہ صرف غیر مسلم ہی ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں بلکہ ان مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیمات کشش کا باعث ہیں، جو مذہب سے بے گانہ ہیں عقلیات کی رو میں بہہ گئے ہیں۔ان کے مبلغین ان حملوں کا دفاع بھی کرتے ہیں جو عیسائی مناظرین نے اسلام پر کئے ہیں۔“ ”ہماری زبان‘ علی گڑھ نے لکھا:۔(انسائیکلو پیڈیا برٹین کا مطبوعہ ۱۹۴۷ء جلد ۲ ص ۷۱۱ - ۷۱۲ ) موجودہ زمانہ میں احمدی جماعت نے منظم تبلیغ کی جو مثال قائم کی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔لٹریچر، مساجد و مدارس کے ذریعہ سے یہ لوگ ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے دُور دُور گوشوں تک اپنی کوششوں کا سلسلہ قائم کر چکے ہیں۔جس وجہ سے غیر مسلم جماعتوں میں ایک گونہ اضطراب پایا جاتا ہے۔کاش دوسرے لوگ بھی ان کی مثال سے سبق لیتے (ہفت روزہ ”ہماری زبان، علی گڑھ ۲۳ دسمبر ۱۹۵۸ء) جماعت احمدیہ کا مستقبل کسی بھی قوم یا جماعت کے مستقل کا اندازہ اس کے ماضی اور حال کے آئینہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔جماعت احمدیہ کے زندہ ماضی اور تابندہ حال کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جا چکا ہے جس کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے مستقبل کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔حضرت بانی سلسلہ جماعت احمدیہ کے روشن مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ا۔اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔اور حجت و برہان کی رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامرادر کھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائیگی۔( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲ ص ۶۶) ۲۔خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے صاف لفظوں میں فرمایا ہے :۔أَنَا الْفَتَّاحُ افْتَحُ لَكَ۔تَرَىٰ نَصْرًا عَجِيْبًا وَيَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا إِنَّا كُنَّا