جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 26 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 26

26 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے۔کہ شروع ہی سے آپ محبت الہی سے سرشار تھے۔چنانچہ آپ کے صاحبزادے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے سیرۃ المہدی جلد اول میں تحریر فرماتے ہیں :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اس روحانی پیوند کا جس عجیب و غریب رنگ میں آغاز ہوا اس کا تصور ایک صاحب دل انسان میں وجد کی سی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا جوانی کا عالم تھا جبکہ انسان کے دل میں دنیوی ترقی اور مادی آرام و آسائش کی خواہش اپنے پورے کمال پر ہوتی ہے اور حضور کے بڑے بھائی صاحب ایک معزز عہدہ پر فائز ہو چکے تھے اور یہ بات بھی چھوٹے بھائی کے دل میں ایک گونہ رشک یا کم از کم نقل کا رجحان پیدا کر دیتی ہے ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود کے والد صاحب نے علاقہ کے ایک سکھ زمیندار کے ذریعہ جو ہمارے دادا صاحب سے ملنے آیا تھا حضرت مسیح موعود کو کہلا بھیجا کہ آجکل ایک ایسا بڑا افسر برسراقتدار ہے جس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں اس لئے اگر تمہیں نوکری کی خواہش ہو تو میں اس افسر کو کہہ کر تمہیں اچھی ملازمت دلا سکتا ہوں۔یہ سکھ زمیندار حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہمارے دادا صاحب کا پیغام پہنچا کر تحریک کی کہ یہ ایک بہت عمدہ موقع ہے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔حضرت مسیح موعو نے اس کے جواب میں بلا توقف فرمایا۔حضرت والد صاحب سے عرض کر دو کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر ” میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔یہ سکھ زمیندار حضرت دادا صاحب کی خدمت میں حیران و پریشان ہو کر واپس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے بچے نے تو یہ جواب دیا ہے کہ میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں“۔شاید وہ سکھ زمیندار حضرت مسیح موعود کے اس جواب کو اس وقت اچھی طرح سمجھا بھی نہ ہو گا۔مگر دادا صاحب کی طبیعت بڑی نکتہ شناس تھی کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگے کہ اچھا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ میں نوکر ہو چکا ہوں تو پھر خیر ہے اللہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔اور اس کے بعد کبھی کبھی حسرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ سچا رستہ تو یہی ہے جو غلام احمد نے اختیار کیا ہے ہم تو دنیا داری میں الجھ کر اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے وہ شفقت پدری اور دنیا کے ظاہری حالات کے ماتحت اکثر فکر مند بھی رہتے تھے کہ میرے بعد اس بچہ کا کیا ہوگا ؟ اور لازمه بشری کے ماتحت حضرت مسیح موعود کو بھی والد کے قرب وفات کے خیال سے کسی قدر فکر ہوا۔لیکن اسلام کا خدا بڑ اوفا دار اور بڑا قدرشناس آتا ہے۔چنانچہ قبل اس کے کہ ہمارے دادا صاحب کی آنکھیں بند ہوں خدا نے اپنے اس نوکر شاہی کو 66