جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 27
27 جس نے اپنی جوانی میں اس کا دامن پکڑا تھا اس عظیم الشان الہام کے ذریعہ تسلی دی کہ:۔الَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ 66 د یعنی اے میرے بندے تو کس فکر میں ہے؟ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔“ حضرت مسیح موعود۔اکثر فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ یہ الہام اس شان اور اس جلال کے ساتھ نازل ہوا کہ میرے دل کی گہرائیوں میں ایک فولادی میخ کی طرح پیوست ہو کر بیٹھ گیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں میری کفالت فرمائی کہ کوئی باپ یا کوئی رشتہ دار یا کوئی دوست کیا کر سکتا تھا؟ اور فرماتے تھے کہ اس کے بعد مجھ پر خدا کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ ناممکن ہے کہ میں ان کا شمار کرسکوں۔“ (سیرت المہدی جلد اول) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوئی سے پہلے کی پاکیزہ زندگی کے متعلق کئی غیروں کی شہادتیں ملتی ہیں۔چنانچہ مشہور اہلحدیث لیڈ ر مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنہ حضرت اقدس کی شہرہ آفاق تصنیف براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے آپ کے متعلق لکھتا ہے :۔مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے (واللہ حسیبہ ) شریعت محمدیہ پر قائم و پر ہیز گار وصداقت شعار ہیں۔“ (رسالہ اشاعتہ السنہ جلد نمبر ۷ ص ۶) مشہور صحافی جناب منشی سراج الدین صاحب بانی ”زمیندار“ اخبار لا ہور نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے حق میں اپنی چشم دید گواہی دی کہ:۔ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا عوام سے کم ملتے تھے۔۱۸۷۷ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے یہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی ان دنوں میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محود مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔“ (اخبار ”زمیندار ۱۸ جون ۱۹۰۸ء) جناب مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں:۔کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی نظر نہیں آتا وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے بلحاظ اخلاق و عادات اور کیا بلحاظ خدمت و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز و برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا۔“ (اخبار وکیل امرتسر ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء) آپ کی پہلی شادی ۱۸۵۱ء میں آپ کے ماموں کی بیٹی ”حرمت بی بی صاحبہ سے ہوئی۔اس بیوی